فواد حسن فواد کی ضمانت؛ نیب کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ


لاہور: لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم فواد حسن فواد کو دی گئی ضمانت کے خلاف نیب کا ضمانت خارج کروانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ تاہم سابق بیوروکریٹ فواد حسن فواد کے خلاف  آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں اہم نکات زیر غور لائے جا رہے ہیں جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں یہ فیصلہ چیلنج کیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق ملزم فواد حسن فواد 14 فروری 2019 کو لاہور ہائیکورٹ سے ہی ضمانت منسوخی کی سبکی کا سامنا بھی کر چکے ہیں، تاہم سپریم کورٹ میں گزشہ سال 3 دسمبر 2019 کو ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکامی کے خوف سے اپنی اپیل ود ڈرا بھی کر چکے ہیں۔ چیئرمین نیب کی جانب سے ملزم فواد حسن فواد کے خلاف  آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں ہونے والی ضمانت کو فوری طور پر چیلنج کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔نیب تحقیقات کے مطابق ملزم تاحال 1 ارب 9 کروڈ روپے سے زائد مالیت کے اثاثہ جات کے ذرائع بتانے سے قاصر رہا ہے۔ جبکہ تفصیلات کے مطابق ملزم نے اپنی اہلیہ، اپنے بھائی اور بھابھی کے نام اربوں روپے مالیت کے اثاثہ جات بنائے۔ تحقیقات کے مطابق ملزمان کی جانب سے 2013 میں راولپنڈی کی مرکزی حیثیت کے حامل جی پی اوچوک میں 1 ارب 17 کروڑ مالیت پر مشتمل 8 کنال پر مہیت کمرشل پلاٹ حاصل کیا گیا، جس پر بعد ازاں 15 منزلہ کمرشل پلازہ کی تعمیر بھی کی گئی، جبکہ اس پلازے پر ہونے والے تعمیراتی اخراجات کا تخمینہ 1 ارب 93 کروڑ روپے لگایا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ ملزمان کی جانب سے پلازہ کی تعمیر کے دوران دیگر اخراجات کی مد میں 25کروڑ سے زائد کی رقم بھی صرف کی گئی۔ پلازے کی تعمیر کیلئےحاصل کیے گئے لون پر سود کی ادائیگی 50 کروڑ، اور 60 کروڑ اصل زر کی ادائیگی کے طور پر صرف کیے گئے۔ اس طرح مذکورہ منصوبہ کی مجموعی لاگت 4 ارب 56 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، تاہم 3 ارب 45 کروڑ روپے مختلف بینکوں سے بطور قرض ظاہر کیے گئے۔ اگرچہ 2010 سے 2017 تک ملزمان کےمکمل ٹیکس ریکارڈ کی رو سے ملزم فواد حسن فواد کے خاندان کی ظاہر شدہ کل ذرائع آمدن فقط 2 کروڑ 50 لاکھ تھی۔ سابق بیوروکریٹ فواد حسن فواد نے 2006 میں انتہائی مہارت سے FYC نامی کمپنی تشکیل دی جس میں اپنے خاندان کے افراد جن میں اہلیہ، بھائی اور بھائی کو مکمل مالکانہ حقوق کا حامل ظاہر کیا گیا۔ بعد ازاں اسی کمپنی کے نام پر راولپنڈی میں موجود کمرشل پلازہ کی تعمیر کیلئے قرضہ جات حاصل کیے جاتے رہے۔

یاد رہے کہ فواد حسن فواد ماضی میں سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ جن پرائیویٹ بینکوں میں غیرقانونی طور پر کام کرتے رہے۔ انہی پرائیویٹ بینکوں سے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے فواد حسن فواد نے قرض بھی حاصل کر لیے۔ لیکن درحقیقت فواد حسن فواد نے اپنے تمام اثاثہ جات چھپانے کی غرض سے اپنی اہلیہ، بھائی اور بھابھی کے نام ہی بنائے۔ نیب کے دعوے کی رو سے فواد حسن فواد 1 ارب 9 کروڑ روپے کی تاحال کوئی وضاحت پیش نہیں کر سکے ہیں، جو ان کے اہل خانہ کے نام منتقل ہوئے۔ علاوہ ازیں نیب تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ فواد حسن فواد کی جانب سے 2013 میں ایک پراکسی کمپنی بنام سپرنٹ سروسز راولپنڈی لمیٹڈ بھی خریدی گئی جس کے اکاونٹ میں کروڑوں کی مبینہ غیرقانونی ٹرانزیکشنز کی جاتی رہیں۔

ملزمان سپرنٹ سروسز (SSRL) کمپنی کو فرنٹ کمپنی کے طور پر استعمال کرتے رہے، جس کا حقیقی مقصد تمام سرمائے کو وائٹ کرنا تھا جس میں منی لانڈرنگ اور لیئرنگ شامل رہی۔ اسی کمپنی میں مختلف اوقات میں کروڑوں روپے کیش جمع کروایا جاتا رہا، تاہم کمپنی ملازمین سے کی جانیوالی تحقیقات کے مطابق لفافوں میں فراہم کردہ رقوم کو اس کمپنی کے اکاونٹ میں ڈیپازٹ کروایا جاتا تھا جو بعد ازاں پلازے کی تعمیر میں استعمال کیے جاتے رہے۔

عجیب بات یہ تھی کہ مذکورہ کمپنی سے ہی فوادحسن فواد نے اہلیہ کے نام 5 کروڑ قرض بھی حاصل کر رکھا تھا اور کمپنی کے نام موجود 3 عدد لگژری گاڑیاں بی ایم ڈبلیو، آڈی اور ہونڈا سوک وغیرہ اپنے ذاتی استعمال میں رکھیں۔ جبکہ دلچسپ بات یہ تھی کہ اسی کمپنی سے ملزم کی اہلیہ ماہانہ 5 لاکھ بطور تنخواہ بھی وصول کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ ریکارڈ کے مطابق ملزم کی اہلیہ نے 2015 میں ذاتی اخراجات کی غرض سے مذکورہ کمپنی سے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے بھی وصول کیے۔

نیب پراسیکیوٹرز کی ٹیم مذکورہ دلائل کو پیش نظر رکھ کر فواد حسن فواد کی ضمانت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری میں مصروف ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/21/3800

Leave A Reply

Your email address will not be published.