نوشہرہ زیادتی کیس؛ وزیر اعلی کے پی کے کی پراسیکیوشن ٹیم بنانے کی ہدایت

نوشہرہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت نوشہرہ میں بچی کے قتل کے بارے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ صوبائی سطح پر خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل، پراسیکیوشن ٹیم، پولیس اور بچی کے وکلاءکیس پر ملکر کام کریں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی سے سپیشل کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کو فوری طور پر فعال بنانے کی درخواست کی ہے، جو ایک ماہ میں بچوں سے بد فعلی کرنے والے مجرمان کیلئے سخت ترین سزا کے قانون کیلئے حتمی سفارشات اور قانونی ڈرافٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مذکورہ کمیٹی صوبے میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرمان کی واچ لسٹ بنانے پر بھی کام کرے گی جبکہ بچوں سے بد فعلی اور قتل کے کیسز کو مختصر ترین وقت میں نمٹانے کیلئے مذکورہ کمیٹی سفارشات اور قوانین بھی وضع کرے گی۔

مذکورہ کمیٹی بچوں سے زیادتی اور قتل کے حوالے سے مجرموں کو سخت ترین سزا فراہم کرنے کیلئے پاکستان پینل کوڈ اور صوبائی قوانین کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی تاکہ مجرموں کو جلد ازجلد کیفرکردار تک پہنچایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے صوبے میں جامع فرانزک لیبارٹری کے قیام پر جلد کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کاکا صاحب نوشہرہ میں بچی کے حالیہ قتل کے حوالے سے صوبائی سطح پر خصوصی پراسکیویشن ٹیم تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ کو کاکا صاحب نوشہرہ میں بچی کے قتل کے حوالے سے پیشرفت پر تفصیلی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ گرفتار کئے گئے دونوں ملزمان کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مذکورہ کیس کے حوالے سے سیمپل پنجاب فرانزک لیبارٹری کو بھیجی گئی ہیں۔ پنجاب فرانزک لیبارٹری کے مطابق ایک ہفتے میں رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ پولیس متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں ہے اور تمام تر تعاون یقینی بنا رہی ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کیس کے حوالے سے تشکیل کردہ ٹیم کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون یقینی بنایا جائے۔ جبکہ متاثرہ خاندان تحقیقات کے عمل سے مکمل طو ر پر مطمئن ہونے چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن حد تک جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کرنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔ صوبے میں انسانیت کی تذلیل نہیں ہونے دیں گے جبکہ مذکورہ کیس میں ملزموں کو قانون کے تحت قرار واقعی سزاد ی جائے گی اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

 

آئی ڈی: 2020/01/23/4059

متعلقہ خبریں

Leave a Comment