لہو لہو ہے میرا کوئٹہ!

عاطف علی


میرے والد صاحب جب آرمی میں تھے تو وہ اپنی  ملازمت کے  دوران کوئٹہ میں بھی تعینات رہے۔ کبھی کبھار ان سے کوئٹہ کی خوبصورتی اور اس کے موسم کے حدوحال پر بھی بات ہوتی رہتی۔ جب   بھی کوئٹہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ  پیش آتا ہے ،تو اکثر فون پہ ان کو اس بارے میں آگاہ کردیتا ہوں یا ان سے اس پہ لازمی بات بھی کرتا ہوں۔  کوئٹہ بذات خود میں نے دیکھا نہیں لیکن تصورات اور لوگوں سے سنی سنائی باتوں کا جب نتیجہ اخد کرتا ہوں تو  ایسا لگتا ہے کہ کوئی جنت نظیر وادی ہی ہے کوئٹہ۔ 10 جنوری 2020 کو کوئٹہ کا ایک خونی دن کہوں توغلط نہیں ہوگا۔  کیونکہ چھوٹے موٹے دھماکے تو  2019 میں اکثر اوقات ہوتے رہے، لیکن  اب کے دھماکے  نے تو کئی گھر اجھاڑ دئے، ٹارگٹ کلنگ کہیں یا خود کش دھماکہ بس کچھ ایسا ہی تھا،کیونکہ ڈی ایس پی امان اللہ ڈی جی کوئٹہ کے مطابق اکثر اوقات اسی مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتے تھے اور11 دسمبر 2019 کو    امان اللہ کے بیٹے کو بھی قتل کیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق تو اس کیس کا اس سے کوئی کڑی نہیں مل رہی لیکن وہ  بھی تحقیقات کا کہہ کے سائیڈ پر ہوگئے۔ ایک ایسے دھماکے میں جس میں  15 افراد جان سے گئے اور بیس کے قریب زخمی ہوگئے، اور اللہ جانے اس میں بھی کتنے ایسے ہونگے کہ وہ اب اپنی نارمل زندگی گزارسکیں گے یا بس خواب ہی دیکھتے رہیں گے۔

اس خود کش دھماکے نے مجھے آج کوئٹہ پہ کچھ  لکھنے  پر مجبور کردیا کہ سننے میں، بولنے اور لکھنے میں تو کوئٹہ اتنا پیارا ہے، دیکھتے ہیں کہ کوئٹہ پڑھنے میں کتنا پیارا لگتا ہے۔ تو اس میں بھی کوئٹہ کی ایک تلخ داستان  میرے سامنے کھڑی تھی۔ جس کا مطلب کوئٹہ کی ماضی بھی کسی تلخ یادوں سے خالی نہیں ہے۔

کوئٹہ  پشتو زبان کا لفظ  کوٹ ہے، جسکا مطلب قلعہ کے ہیں، کہا جاتا ہے کہ کوئٹہ کا یہ نام ان کے چاروں اطراف سے پہاڑوں سے گھرے ہونے کے باعث پڑا۔ ان کے چاروں اطراف پر پھیلے پہاڑوں کے نام چلتن، زرغون اور مہردار  کہلائے جاتے ہیں۔ کوئٹہ ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ چھٹی صدی عیسوی میں جا ملتی ہے جب یہ ایران کی ساسانی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسمانوں کی ایران پر فتح حاصل کرنے کے بعد اس کو مسلم سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا۔ محمود غزنوی کے گیارہویں صدی عیسوی کے فتوحات میں بھی کوئٹہ کا ذکر ملتا ہے۔ ایک خیال کے مطابق یہاں کانسی قبیلے نے بھی پڑاو ڈالا تھا، 1543ء میں مغل شہنشاہ ہمایوں نے بھی شیرشاسوری سے شکست کھانے کے بعد  ایران فرار ہونے سے قبل کچھ عرصہ یہاں قیام فرمایا تھا اور جاتے ہوئے اپنے بیٹے اکبر کو یہیں چھوڑ گیا  تھا جو دو سال تک یہیں پر رہا۔1556ء تک کوئٹہ مغل سلطنت رہا اس کے بعد ایران نے پھر سے اس کو اپنی  سلطنت بنادیا۔ 1595 میں اکبر بادشاہ نے کوئٹہ کو ایک بار پھر اپنی سلطنت کا حصہ بنا دیا۔ 1730 ء کے بعد اس کو ریاست قلات میں شامل کرلیا گیا،

1828ء میں ایک یورپی مسافر کے مطابق کوئٹہ کے اردگرد مٹی کی ایک بڑی دیوار تھی جس کے باعث کوئٹہ ایک قلعہ نما لگتا تھا ۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت 300 گھر آباد تھے۔  1839ء کی پہلی برطانوی و افغان جنگ کے دوران انگریز کوئٹہ پر قابض ہوگئے ۔ 1876ء میں اسے باقاعدہ برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا گیا اور رابرٹ گروو سنڈیمن کو یہاں کا  پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا گیا۔ اس دوران بلوچ قبائل کے افراد بڑی تعداد میں کوئٹہ میں آباد ہوئے۔ انگریزوں نے کوئٹہ کو ایک فوجی اڈا میں تبدیل کر دیا چنانچہ اس دور میں کوئٹہ کی آبادی میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

کوئٹہ کی تاریخ بھی انگنت تلخ  یادوں سے بھری پڑی ہے، عذاب الٰہی کہیں یا بد قسمتی وہ کوئٹہ کی تاریخ میں ایک ڈراونا خواب ثابت ہوا،  31 مئی 1935 کو کوئٹہ والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی  اور ایک بہت بڑے زلزلے نے ہستے بستے کوئٹہ صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔  ایک اندزے کے مطابق  اس وقت چالیس ہزار افراد  ہلاک ہوگئے تھے۔ زلزلے کی شدت تقریباََ 7.1 بتائی گئی۔

یہ تو رہی کوئٹہ کی کچھ تاریخی واقعات  کہ کوئٹہ والوں نے نہ صرف آج بلکہ پہلے بھی  غم و دکھ سے بھرے دن دیکھے ہیں۔ اب چونکہ غیر ارادی طور پر میرا مضمون توڑا لمبا ہوگیا تو میں اصل بات پر آتا ہوں کہ  گزشتہ برس کوئٹہ میں خود کش دھماکے ہوں یا کان کنی کے دوران  کان کنوں کی ہلاکت ہو یا کوئی روڈ حادثات اس پر تھوڑی سے روشنی ڈالنے کی کوشش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

ایک اندازے کے مطابق  2019 کوئٹہ کیلئے اس حوالے سے تھوڑا بہتر ثابت ہوا۔کو نکہ روپورٹ کے مطابق  2019 میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر 190 واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمت 145 افراد جاں بحق ہوئے۔ جبکہ 2018 میں بلوچستان مں  دہشتگردی کے 284 واقعات میں 313 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ جس میں  21 پولیس  ، 43 ایف سی ، 11 لیویز  اہلکاروں نے اپنے فرایض انجام دیتے ہوئے اپنے جانوں کا نذرانہ  پیش کیا۔ جنوری 2019 کو لورالائی میں ڈی آئی جی آفس کے حملے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔ اپریل کو اورماڑہ میں 141 افراد کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا۔21 اپریل کو کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی  میں خودکش دھماکے میں 21 افراد جاں بحق ہوئے۔15 نومبر کو کچلاک بائی پاس دھماکے میں 3 ایف سی اہلکار جاں بحق ہوئے۔

جبکہ کان کنی کے دوران اور باقی روڈ حادثات کی طرف نظر دوڑائی جائے تو  سال 2019میں  30سے زائد واقعات مں  86کان کن لقمہ اجل بنے۔ دکی میں  18،چمالانگ میں 16،شاہرگ میں  13،مچھ میں 10اور حب میں ایک کان کن جان سے گئے۔

یہ ایک انسانی جنیریٹڈ روپورٹ ہے جس کا مکمل اعتبار تو نہیں کیا جا سکتالیکن اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ جانیں  بلوچستان  نے جانوں کا  نذرانہ پیش کیا لیکن اب تک کوئی بھی خاطر خواہ  روپروٹ یا تفتیش سامنے نہیں آئی۔ اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی  اقدامات کئے گئے۔ روز سنتے ہیں کہ آئندہ کیلئے  اصلاحات کئے جائیں گے۔ میرا ایک سوال یہ ہے کہ آئندہ کیلئے کیا اصلاحات کیوں کرنے ہیں آپ آئندہ بھی کوئٹہ اور باقی بلوچستان میں خود کش حملے ہوں یا دوسرے جان لیوا حادثات اس کیلئے تیار ہیں کہ ایسا ہوگا اور ہم تبھی کچھ کرسکیں گے۔ خدارا بلوچستان پر نظر کرم فرما دیں،  جو ہے نہیں اس کو لینے کی تگ و دو میں جو پاس ہے اس سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/24/4088

Comments are closed.