ٹرمپ اپنا مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ اگلے ہفتے پیش کریں گے

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فلسطینی شروع میں ان کے امن منصوبے کی تفصیلات جان کر منفی ردعمل دکھائیں گے لیکن یہ منصوبہ دراصل ان کے لیے بہت مثبت ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ  اگلے ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور الیکشن میں ان کے حریف بینی گنٹز کے وائٹ ہاؤس دورے سے قبل مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے امن منصوبے کی تفصیلات جاری کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ امن منصوبہ کافی عرصے سے زیر التوا ہے اور اس کے سیاسی پہلوؤں کو اب تک خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم معاشی پہلو ماضی میں جاری کیے جا چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے بدھ کو ایئر فورس ون کے ذریعے سوئٹزرلینڈ سے واشنگٹن واپسی کے دوران اس امن منصوبے کے دو خالقوں اور سینئر مشیروں جیرڈ کشنر اور اوی برکووٹز کے ساتھ اس کی تفصیلات جاری کرنے کے وقت کے حوالے سے اہم مشاورت کی۔

ٹرمپ نے دوران پرواز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ  فلسطینی شروع میں ان کے امن منصوبے کی تفصیلات جان کر منفی ردعمل دکھائیں گے لیکن یہ منصوبہ دراصل ان کے لیے بہت مثبت ہو گا۔ امریکی صدر، جو اگلے منگل نتن یاہو کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کریں گے، کہا: ’یہ شاندار منصوبہ ہے جو امید ہے کہ کام کرے گا۔‘ درجنوں صفحات پر مشتمل ان امن تجاویز میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تلخ سیاسی مسائل مثلاً یروشلم کی حیثیت اور دیگر مسائل پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اس موقعے پر فلسطینی قیادت کو بھی مدعو کریں گے یا نہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نبیل ابو رودینا کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل اور امریکی انتظامیہ کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ حد سے زیادہ آگے نہ بڑھیں۔ اسرائیل کے سیاسی مبصرین ٹرمپ کی جانب سے سیاسی مشکلات کے شکار نتن یاہو کو مدعو کرنے کو ان کے لیے ایک حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔ 

یاد رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کو ختم کرنے کا یہ امن منصوبہ گذشتہ دو سالوں میں کئی مرتبہ تاخیر کا شکا ر ہو چکا ہے۔

امن منصوبہ ڈیزائن کرنے والی ٹیم کی سوچ سے آگاہ ایک ذریعے کے مطابق منصوبے کی تفصیلات جاری کرنے کے موقع پر نتن یاہو اور بینی گنٹز کو مدعو کرنے کا مقصد اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ ٹرمپ کسی ایک انتخابی امیدوار کے حمایتی ہیں۔ یہ امن منصوبہ کشنر، برکووٹز اور سابق مشیر جیسن گرین بلیٹ کی تین سالوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشنر گذشتہ جولائی بحرین میں ایک کانفرنس کے دوران اس منصوبے کے معاشی پہلو یعنیٰ مشرق وسطیٰ کے لیے 50 ارب ڈالرز کے فنڈز کی تجویز دے چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کشنر اور برکووٹز نے  ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے بعد رواں ہفتے اسرائیل اور سعودی عرب کا دورہ کرنا تھا لیکن اب انھوں نے ٹرمپ کی واشنگٹن واپسی کے دوران ان سے منصوبے پر تبادلہ خیال کا ارادہ کیا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 2014 میں امن مذاکرات ختم ہو گئے تھے اور فلسطینی ٹرمپ کے امن منصوبے کو مردہ قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیل نواز پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی اس تنازعے پر کئی دہائیوں سے جاری دو ریاستی حل کی امریکی پالیسی پر یو ٹرن لیتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے اپنا سفارت خانے اس شہر میں منتقل کر چکی ہے۔

نومبر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادیوں کو عالمی قوانین کے خلاف نہیں سمجھتا۔ فلسطینی اور عالمی برادری کی اکثریت ان اسرائیلی آبادیوں کو عالمی قوانین کے تناظر میں غیر قانونی سمجھتی ہے۔ تاہم اسرائیل اس زمین سے جڑی تاریخی، مذہبی اور سیاسی وابستگیوں اور سکیورٹی ضروریات کو بنیاد بنا کر اسے جائز قرار دیتا ہے۔

نیتن یاہو نے گذشتہ ستمبر اپنی الیکشن مہم کے دوران اسرائیل کے زیر تسلط مغربی کنارے کے بڑے حصے وادیِ اردن کو ملکی سرحدوں میں ضم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

اسرائیل نے 1967 کی ایک جنگ میں مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا تھا اور 1990 کی دہائی میں اسرائیل کے ساتھ متعدد جزوی امن معاہدے کرنے والے فلسطینی مستقبل میں اس حصے کو اپنی ریاست میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

مغربی کنارے پر حکمران محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ  مذاکرات سے کھلے عام انکار کر چکی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم پر مشتمل فلسطینیوں کی  آزاد ریاست کے خواب کو چکنا چور کر دے گا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/24/4100

متعلقہ خبریں

Leave a Comment