کیا تبدیلی آ رہی ہے؟

ملک کی تین بڑی جماعتوں کے آرمی ایکٹ میں تبدیلی اور توسیع کے فیصلے کے بعد لگتا ہے کہ کپتان سے جتنا کام لینا تھا وہ لیا جاچکا اب ایک نئے سیٹ اپ کی بساط پچھانے کی تیاریاں کی ہورہی ہے اسلام آباد کا موسم جتنا سرد ہوتا جارہا ہے وہیں سیاسی درجہ حرارت مزید گرم ہوتا جارہا ہے سیاسی مبصرین کا خیال ہے اب مولانا فضل الرحمن سے کئیے گئے وعدے کو ایفاء کرنے کا وقت بھی آگیا ہے اور   گزشتہ چند دنوں کے اندر چوہدری برادران اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان تین ملاقاتیں  بھی ہوچکی ہے ۔

7 اراکین قومی اسمبلی رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم کی وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے بعد پانچ نشستوں والی ق لیگ اور بی این پی مینگل کے ناراض رویوں کے بعد حکومتی کشتی ہچکولے کھاتی نظر آرہی ہے اس وقت کپتان کو اپنی عددی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے سترہ کلیدی ووٹ درکار ہے اور وہ ہاتھ سے نکلتے محسوس ہورہے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے کہ کپتان کا دست راست انکو رام کرنے میں ناکام رہا تو اسکی صورت میں عمران خان کے اقتدار کی کرسی بھی ڈوب جائیگی یاد رہے کہ اس وقت تحریک انصاف کو مرکز یعنی قومی اسمبلی میں عددی اکثریت برقرار رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہیں جبکہ حکومت چارووٹوں کی اکثریت پہ قائم ہے سیاسی حلقے ایم کیو ایم کی وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے فیصلے کو کپتان حکومت کے اختتام کا آغاز قرار دے رہے ہیں لیکن بلترتیب پانچ نشستوں والی ق لیگ 4 نشستوں والی بی این پی مینگل نے بھی ایک مرتبہ پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور اپنے اتحاد کے فیصلے پہ نظرثانی شروع کردی ہے اس صورتحال میں عمران خان نے جہانگیر ترین کو رام کرنے کا ٹاسک دیا ہے کہ کسی طرح اتحادیوں کو رام کیا جائے مگر ایم کیو ایم کے انکار کے بعد لگتا ہے کہ مینگل بھی مزید شایدحکومت کا ساتھ نہ دے سکے ان حالات میں اگر ق لیگ نے بھی الگ ساتھ چھوڑ دیا تو مرکز کیساتھ پنجاب بھی تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکل جائیگی ۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے اندر تحریک عدم اعتماد لانے کی خاطر باقاعدہ اندرونی سطح پر رابطے شروع کر دئیے گئے ہے سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی صورت میں تحریک انصاف پارلیمنٹ میں اکثریت برقرار نہیں رکھ سکے گی کیونکہ گزشتہ چار ماہ کے دوران  تحریک انصاف کی دو وکٹیں گرچکی ہے خیال رہے کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پہ منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کی تعداد  سکڑ کر اب 155 رہ گئی ہے قومی اسمبلی میں مخلتف جماعتوں کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اس وقت اتحادی جماعتوں کے 26 مستعار یعنی مانگے تانگے کے ووٹوں سے وزیر اعظم برقرار ہے تحریک عدم اعتماد کی صورت میں وزیر اعظم کو اپنے جماعت کے تمام 155 اراکین اسمبلی کے علاوہ کم از کم 17 اتحادی جماعتوں کے ووٹ بھی درکار ہے یعنی اگر ایم کیو ایم جیسی بڑی اتحادی جماعت نے مخالفت میں ووٹ دیا تو عمران خان وزیر اعظم نہیں رہینگے یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چائیے کہ اختر مینگل بھی حکومت سے سخت نالاں ہیں اور مرکز سے حکومتی اتحاد سے نکلنے کی دھمکی دےچکے ہے اور ایسی صورت میں اختر مینگل اور جمعیت علمائے اسلام ف بلوچستان میں اپنی سیٹ اپ لاسکتے ہے  اب تو ق لیگ کے رہنما اپنے تحفظات کا اظہار سرعام کررہے ہوتے ہیں یاد رہے کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف نے 158 نشستوں پہ کامیابی حاصل کی تھی کچھ ہی عرصے بعد تحریک انصاف کے نشستوں کی تعداد کم ہو کر 155 رہ گئی ہے یاد رہے کہ جب تحریک انصاف نے سات جماعتوں سے اتحاد کرکے اپنی حکومت قائم کی تھی تو انہیں 26 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت درکار تھی 18 ماہ قبل عمران خان نے 176 ووٹ لیکر پاکستان کے وزیر اعظم بنے تھے آئین کی رو سے عمران خان کو اپنا عہدہ برقرار رکھنے کیلئے کم از کم 172 ووٹ درکار ہے جبکہ تحریک انصاف کی اپنی نشستوں کی تعداد محض 155 ہے اسکا مطلب یہ ہوا کہ وزیر اعظم کو اپنا عہدہ برقرار رکھنے کیلئے 17 ووٹ درکار ہے اگر مستقبل قریب میں 7 نشستوں والی متحدہ قومی موومنٹ 5 نشستوں والی ق لیگ 4 نشستوں والی بی این پی مینگل،بلوچستان عوامی پارٹی  اور گرینڈ الائنس جیسی جماعتیں بھی حکومتی اتحاد سے نکل گئی تو پھر تحریک انصاف کی حکومت کو شیخ رشید اور شاہ زین بگٹی کی حمایت کے باوجود بچ نہیں پائیگی ۔

اسلام آباد میں تبدیلی کی آوازیں زور پکڑنے کیساتھ شدت کی طرف جارہی ہے جسکی واضح مثال ایم کیو ایم کے وفد سے حکمران جماعت کا پہلی بار خالی ہاتھ جانا پڑگیا ہے ساتھ ہی بی این پی مینگل نے 19 کو اپنی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے گو کہ چھ نکات پہ مکمل طور پہ عمل درآمد نہیں کیا جاسکا سوائے چند دنوں کے اندر مزید کچھ لاپتہ افراد رہا ہوگئے ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اختر مینگل اس بار بھی مہلت سے کام لیگی یا اب کی بار وہ باقاعدہ حکومتی کشتی سے علیحدگی کا اعلان کرینگے مسلم لیگ ق نے بھی سرپرائز دینے کا اعلان کیا یے سیاسی داو وپیچ کے ماہر پنجاب کا سیاسی گھرانہ چوہدری برادران اس وقت وکٹ کے چاروں طرف کھیل رہےہیں جہاں انکے رابطے مولانا فضل الرحمن کیساتھ جاری ہے وہیں وہ حکومت اسٹیبلشمنٹ اور دیگر سیاسی جماعتوں کیساتھ رابطے رکھے ہوئے ہے کیونکہ انکی نظر پنجاب پہ یے اور عین ممکن ہے کہ وہ وزارت اعلی پنجاب کا سوچ رہے ہوں تو ایسی صورت میں اگر ن لیگ کی طرف سے اتفاق رائے آگئی تو انکا وزارت اعلی کا خواب پورا ہوجائیگا جبکہ دوسری طرف ہم بات کریں بلوچستان کی تو وہاں بھی کھچڑی پک رہی ہے اور مولانا فضل الرحمن نے یہ اختیار وہاں کی صوبائی جماعت کو دیا ہوا ہے کہ وہ ماحول کے مطابق فیصلہ کریں ۔

اس سارے منظر نامے میں بظاہر مولانا فضل الرحمن نظر نہیں آرہے لیکن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے جو وعدے کئے گئے تھے انکو پورا کرنے کا وقت آگیاہے اور اب جبکہ ملک کی بڑی جماعتوں نے آرمی ایکٹ کی منظوری بھی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی سوچ لیا کہ کپتان سے جتنا کام لیا جانا تھا لیا گیا سو اب مہرے تبدیل کردئیے جائیں ۔ان تمام حالات سے لگ رہا ہے کہ ان ہاوس تبدیلی بعید نہیں لیکن دوسری جانب عمران خان نے ایسی صورت میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا سوچا ہے اور اس حوالے سے وہ اپنے قریبی حلقوں سے مشاورت بھی کرچکے ہیں ۔

 

آئی ڈی: 2020/01/24/4092

متعلقہ خبریں