بجلی کی قیمتوں میں اضافہ: عوام کی جیبوں سے 863 ارب روپے نکالنے کا منصوبہ تیار

اسلام آباد: عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کا قرضہ اتارنے کے لیے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں ‏کو ٹارگٹ دے دیا۔ حکومت نے آئندہ 5 برسوں میں عوام سے 863 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کو بجلی کے نرخ بڑھانے کی درخواستیں کر دی ہیں۔ بجلی کے اوسط یونٹ کی قیمت 25 روپے 64 پیسے ہونے کا امکان ہے۔ دستاویزات کے مطابق نیپرا نے 5 درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔ آئیسکو نے 5 سال کے لیے 49 ارب روپے ریونیو کا مطالبہ کیا۔ میپکو نے 459 ارب روپے اکھٹے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیسکو نے 213 ارب، سیپکو نے 68 ارب روپے اور حیسکو نے 71 ارب روپے ریونیوکی درخواست دائر کی ہے۔ میپکو نے بجلی فی یونٹ اوسط قیمت 25 روپے 64 پیسے مقرر کرنے کی درخواست ‏کی ہے۔ پیسکو نے بجلی فی یونٹ اوسط قیمت 23 روپے 26 پیسے مقررکرنے کی استدعا کی  جبکہ سپیکو نے بجلی فی یونٹ اوسط قیمت 20 روپے 22 پیسے اورحیسکو نے 18 روپے 43 ‏پیسے کی درخواست کی ہے۔

یاد رہے پچھلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں اب تک بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 3 روپے 85 پیسے اضافہ ہو چکا ہے۔

آئی ڈی: 2020/01/24/4134

اپنا تبصرہ بھیجیں