پی اے آر سی انتظامیہ نے کرپشن کے الزامات پر برطرف افراد کو بحال کر دیا

اسلام آباد:پی اے آر سی میں کروڑوں روپے کے کرپشن کے الزامات پر برطرف افراد کو بحال کر دیا گیا۔ محکمانہ، قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی اورایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر ڈاکٹر ناصرمحمود چیمہ اور ساکت سلیم کو تین سال قبل ملازمت سے جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ ملازمین کی بحالی کے احکامات ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیرمین پی اے آر سی نے جاری کیے۔ دستاویزات کے مطابق پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل(پی اے آر سی) کے زیتون پراجیکٹ میں کروڑوں روپے(Rs.15,06,82,285) کی مالی بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر تین سال قبل ڈاکٹر ناصرمحمود چیمہ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر زیتون ترقیاتی پراجیکٹ اور ساکت سلیم سینیر اکاؤنٹ آفیسر کو مختلف سطح پر محکمانہ، قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی اورایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد Olive Project میں کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر تین سال قبل ملازمت سے جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے پی اے آر سی میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا۔جس کے تحت بیرون ملک سے زیتون کی اعلیٰ نسل کے پودے درآمد کیے جانے تھے۔ ڈاکٹر ناصر چیمہ نے زیتون کے پودوں کی درآمد میں بدعنوانی کا ارتکاب کیا اور پودوں کی درآمد کے ایک ہی Air Way Bill (AWB) کو متعدد بار ردوبدل (Tampering) اور جعلی کاغذات استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے کا غبن کیا۔ خایستہ خان انٹرپرائزز کے نام پردسمبر2014میں ٹیندر حاصل کیا گیا جبکہ پی اے آر سی کے ملازم طا ہر جمشید کی والدہ رضیہ سلطانہ Sole Proprietor کے نام پر میزان بنک لورالائی برانچ میں ایک جعلی اکاؤنٹ مارچ 2015میں کھولا گیا اور اس میں کروڑوں روپے (Rs.106486833) کی ادائیگی کی گئی۔ زیتون پراجیکٹ میں کرپشن کے معاملات 2016-17 میں سامنے آئے۔محکمانہ کاروائی کے لیے ڈی جی این اے آر سی کی سربراہی میں تشکیل کردہ کمیٹی نے ان ملازمین پر کرپشن کے الزامات کی تصدیق کی۔ ایف آئی اے نے بھی ان ملازمین پر کرپشن کا جرم ثابت کیا۔ ان رپورٹس کو مد نطر رکھتے ہوئے ان ملازمین کو جبری ریٹائر کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تین سال قبل جب ان افراد کو ملازمت سے جبری ریٹائر کیا گیا تو انہوں نے قواعد کے برخلاف وفاقی وزیر قومی غذائی تحفط و تحقیق (National Food Security & Research) سکندر حیات بوسن کو براہ راست اپنی بحالی کی اپیل کی، بعد ازاں وفاقی وزیر نے کونسل کا موقف سنے بغیر اپیل منظور کر لی اواس طرح یہ ملازمین اپنی بحالی کے احکامات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم اس وقت کے چیرمین نے ان احکامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عمل درآمد سے انکا ر کر دیا۔ چیرمین کے اس اقدام کو ان ملازمین نے اسلام آباد ہائی کور ٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں وفاقی وزیر کے فیصلے کو پی اے آر سی کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے غورو خوض کے لیے پیش کرنے اور منظوری سے مشروط کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔ جبکہ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود ڈاکٹر محمد عظیم خان نے PARCکے Board of Govenors کے سامنے کیس کو پیش کیے بغیر اور پی اے آر سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی مخالفت کو بھی پس پشت ڈالتے ہوئے اس تمام معاملے میں مبینہ طور پر پی اے آر سی سسٹم اور وزارت National Food Security کی انتطامیہ کو لا علم رکھتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر لیگل زاہد سے من پسند قانونی رائے لیکر موجودہ وفاقی وزیر کو کیس کے حقائق سے آگاہ کیے بغیر اس کی توثیق کرائی اور ان ملازمین کو بحال کر دیا۔ ذ رائع کے مظابق ناصر چیمہ گزشتہ ایک سال سے ملازمت پر بحالی کی کوششیں کر رہے تھے۔ ڈاکٹر عظیم کے اس اقدام پر سائینسدانوں کی تنظیم پارسا کے سیکرٹری جنرل روشن زادہ جو کہ ڈاکٹر عظیم کے دست راست سمجھے جاتے تھے نے احتجاجا استعفیٰ دے دیا۔ذرائع کے مطابق انہیں سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کی دوبارہ عہدے پر بحالی کے طریق کار پر شدید اختلافات تھے۔ان ملازمین کی بحالی پر سائنسدانوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اس اقدام سے ادارے کا وقار مجروح ہوا اورادارے میں کرپٹ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ملازمین مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عظیم نے بتایاکہ ان افراد کو اپیلٹ اتھارٹی کی منظوری کے بعد بحال کیا گیا تھا جس میں موجودہ اتھارٹی کی منظوری بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں