سیدہ فاطمہ کی شخصیت اور عورت کے حقوق

سردار انبیا ، رسول خدا، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا وندکریم نے اس وقت بیٹی سے نوازا جب عرب کے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو توہین سمجھا جاتا ہے، لوگ بیٹی کی پیدائش پر منہ چھپائے پھرتے تھے اور تو اور عرب کے وہ بدو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور تک کر دیتے تھے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہ صرف بیٹی کی پیدائش خوشی کا اظہار کیا بلکہ بیٹی کو رحمت کہا۔ یہ بیٹی رسول اللہ کو اسکو عطا کی گئی جب دشمن آنحضرت کو بے اولاد قرار دیتے تھے۔ خداوند کریم نے سیدہ کی ذات پر سورۃ الکوثر عطا کی یہ قرآن کریم کی 108 ویں اور مکی سورتوں میں تیسویں نمبر پر ہے۔ اور اس میں حکم فرمایا ۔۔ ہم نے آپکو کوثر عطا کی ، پس اپنے رب کی عبادت کریں اور قربانی دیں ، بیشک آپکا دشمن ہی نسل بریدہ ہوگا۔ مسلمانوں کے جعفری فقہ کے نزدیک اس کوثر سے مراد سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں۔ ان علماء کے نزدیک یہ سورۃ عاص بن وائل کے اس طعنے کی جواب میں نازل ہوا جس میں اس نے پیغمبر اکرام کو بے اولاد اور ابتر کہا تھا۔ جناب سیدہ کی ولادہ 20 جمادی الثانی بعثت کے پانچویں یا دوسری روایت کے مطابق بعثت کے دوسرے سال مکہ میں ہوئی۔
سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا واحد خاتون ہیں جو نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ میں پیغمبر اکرم کے ہمراہ تھیں۔
رسول کی بیٹی کو عبادت خدا سے شدید لگاؤ تھا ۔ انکا فرمان ہے
من اسعد الی اللہ خالص اھبط اللہ عزوجل الیہ افضل مصلحتہ ( ترجمہ: جو اپنی خالص عبادت کو اللہ کی طرف بھیجے تو اللہ تعالی اپنی بہترین مصلحت اسکی طرف نازل کرے گا۔)
شعیہ اور سنی علما اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت فاطمہ کے ساتھ دوستی اور محبت کو خدا نے مسلمانوں پرفرض قرار دیا ہے۔ علما آیۃ مودت کے نام سے مشہور سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 23 سے استناد کرتے ہوئے سیدہ فاطمہ کی دوستی اور محبت کو فرض اور ضروری سمجھتے ہیں۔
پیغمبر اکرام کی رحلت کے بعد چند ماہ ہی آپ زندہ رہیں ، اور بابا کی رحلت کے بعد اللہ جانے کس حد اور کیونکر اتنی مغموم ہوئیں کہ ان الفاظ میں مصائب پڑھے ( بابا آپ کے بعد مجھے ایسی مصیبتیں پڑیں کہ روشن دنوں پر پڑتیں تو سیاہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے)
مشہور قول کی بنا پر آپ 3 جمادی الثانی 11 ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ آپ نے حضرت علی کو وصیت کہ مجھے شب کی تاریکی میں دفن کیجئے گا۔ حضرت علی کے علاوہ کچھ اور افراد نے بھی آپ کے جنازے میں شرکت کی جن کی تعداد اور ناموں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ تاریخی مصادر میں امام حسن، امام حسین، عباس بن عبدالمطلب، مقداد ، سلیمان، ابوزر، عمار، عقیل ، زبیر، عبداللہ بن مسعود اور فضل بن عباس کے نام شامل ہیں۔
تاریخ کی کتابیں اس معظمہ بی بی کے حالات و واقعات سے بھری ہوئیں ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ کتابوں میں چھپے علمی خزانوں سے وقت کی دھول صاف کر کے ان سے استفادہ کیا جائے۔ تاکہ ہمیں عورت کی عظمت اور عورت کے کردار سے متعلق آگاہی ہو اور معاشرہ سازی میں عورت اپنے لیے خود اصول وضع کر سکے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment