نادرا میں نئے بھرتی ہونے والے امیدواران سیٹ سنبھالنے سے قبل ہی برخاستگی کے خطرے سے دوچار

NADRA-Logo

پشاور: نادرا کی جانب سے فاٹا اضلاع میں شروع کیے جانے والے "ٹمپریری ڈسپلیسڈ پرسنز – ایمرجنسی ریلیف پراجیکٹ” میں میرٹ پر منتخب ہونے والے امیداوران نوکری پر آنے سے قبل ہی برخاستگی کے خطرسے سے دوچار ہو گئے ہیں۔  اپنی آسامیوں پر جوائننگ دینے والے امیدواروں کو ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے جبکہ حکام اس حوالے سے کوئی تحریری یا سرکاری دستاویز جاری کرنے سے گریزاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ریجنل ہیڈ آفس نادرا، پشاور نے ستمبر 2019 میں فاٹا اضلاع کے مختلف علاقوں بشمول پرشمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند میں ٹمپریری ڈسپلیسڈ پرسنز – ایمرجنسی ریلیف پروجیکٹ (ٹی ڈی پی – ای آر پی) میں قلیل المدتی بنیادوں پر مختلف آسامیوں پر تعیناتی کے لیے ایک اشتہار دیا۔ مذکورہ اشتہار پر ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔ ان درخواستوں پر شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں کو 18 نومبر کو انٹرویو کے لیے طلب کیا گیا۔ 17 جنوری 2020 کو انٹرویو میں کامیاب ہونے  والے امیدواران کو کال کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ انہیں اس پروجیکٹ میں منتخب کر لیا گیا ہے۔ کامیاب ہونے والے امیدواران کو آگاہ کیا گیا کہ وہ نادرا ریجنل ہیڈ کوراٹر سے اپنا اپائنٹمنٹ لیٹر وصول کر سکتے ہیں۔ مزید برآں ان امیدواراں کو مطلع کیا گیا کہ  جوائننگ کے بعد انہیں ابتدائی طور پر تین دن کی ٹریننگ دی جائے گی جس کے بعد 27 تاریخ کو ان امیداروان کو ان کے متعلقہ اضلاع میں بھجوا دیا جائے گا۔ بعد ازاں امیدواران کو ایک بار پھر کال کر کے مطلع کیا گیا کہ یہ ٹریننگ منسوخ کر دی گئی ہے اور تمام امیدواروں کو ٹریننگ کی نئی تاریخ سے جلد آگاہ کیا جائے گا۔

اس ضمن میں چند پارلیمینٹیرینز کی جانب سے چئیرمین نادرا کو لکھا گیا ایک مبینہ خط بھی منظر عام پر بھی آیا جس میں چئیرمین نادرا کو آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ آسامیوں پر تعیناتی کے لیے کوئی تحریری ٹیسٹ نہیں لیا گیا جبکہ اس خط کے مطابق بھرتی کے اس عمل میں کرپشن کے ذریعے غلط افراد کو بھی بھرتی کیا گیا۔ اس خط کی تصدیق کے لیے سینیٹر تاج آفریدی سے رابطہ کرنے پر ان کے سٹاف نے اس خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ خط پر فاٹا کے پارلیمینٹیرینز کے دستخط ہونے کے بعد اسے چئیرمین نادرا کے آفس بھجوایا جائے گا۔ ان کے سٹاف نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے چئیرمین نادرا سے اب تک صرف بذریعہ فون بات کی گئی ہے۔ 

واضح رہے کہ مذکورہ اشتہار میں دی گئی شرائط کے مطابق ان آسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔ مذکورہ اشتہار کی شرط نمبر 9 کے مطابق ایک سے زائد آسامی پر درخواست دینے والے امیدوار کو اس کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھنے والی آسامی پر ہی تعینات کیا جانا تھا۔

یاد رہے ان تعیناتیوں کے خلاف وزیر اعظم کے کمپلینٹ سیل میں بھی شکایات درج کروائی گئیں جس کے جواب میں نادرا کی جانب سے ان شکایتوں کو بے بیناد قرار دیتے ہوئے ان تعیناتیوں کو اصول و قوانین اور میرٹ کے عین مطابق قرار دے دیا۔

اس ضمن میں نادرا کے ترجمان کو ایک سوالنامہ بھیجا گیا ہے جس کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے اس آسامیوں پر منتخب ہونے والے امیداروں کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ ان امیدواران کا یہ کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر امیدواران نے دوسرے محکموں سے استعفیٰ دے کر نادرا میں جوائننگ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے  ساتھ ناانصافی ہوئی تو  متاثرین اپنے حق کے لئے قانونی جنگ لڑیں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/29/4441

متعلقہ خبریں

Leave a Comment