فلسطین سے متعلق امریکی منصوبہ صدی کا منصوبہ نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے: صدر اردگان

صدر رجب طیب اردگان نے فلسطین کو تقسیم کرنے کے امریکی  منصوبے پر  اپنے  شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

صدر اردگان نے ان خیالات کا اظہار کل انادولو پبلشرز ایسوسی ایشن (اے وائی ڈی) کے زیر اہتمام 5 ویں انادولو  میڈیا ایوارڈ تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے  کیا۔

انہوں نے  اپنے  جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  یہ کیسا صدی  کا معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی تقدیر کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی القدس برائے فروخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ القدس ہماری سرخ لکیر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سیکڑوں اور ہزاروں فلسطینی بھائی اپنے خون کی قیمت پر وہاں اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ ہم  بھی اس کے لئے تیار ہیں۔

صدر نے بیرون ملک ترکی کے خلاف عوامی رائے بیدار  کرنے کی کوشش کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ  وہ  ترکی تمام تر حالات کے باوجود اپنی پالیسی اور رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی  نہیں  کرے گا بلکہ ہمیشہ ہی فلسطینیوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے بارے میں جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور ترکی کے بارے میں غلط پروپگینڈا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروپگینڈا کے پیچھے آرمینیائی، یونانی لابی، دہشت گرد تنظیموں پی کے کے،  فیتو اور داعش کا ہاتھ ہے۔

انہوں  نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب غیر ملکی تاجر، سائنسدان صحافی اور طلبا ملکی تاجروں، صحافیوں، سائنسدانوں اور طلبا سے ملاقات کریں گے تو سچ سب کے سامنے ہوگا اور ترکی کے  بارے میں  منفی پروپگینڈا خود بخود ختم ہو جائے گا۔

صدر رجب طیب اردگان  نے کہا ہے وہ 2023 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے  دن رات محنت کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وہ صرف اور صرف اپنے عوام کے سامنے ہی جوابدہ ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اہم چیز افہام و تفہیم کے ذریعے کام کرنا ہے۔  اہم چیز  قوم  کا صحیح سمت میں گامزن ہونا ہے۔ کون کیا کہتا ہے ہمارا اس سے کوئی  سرو کار نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment