کورونا وائرس کیا ہے؟


کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ کے نیچے یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے۔ کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہ کرلیں۔ اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز (وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔یہ  عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے، سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے ۔مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات  وغیرہ شامل ہیں۔ اس کی حالیہ دریافت چمگادڑوں میں ہوئی  ہے۔ یہ جب انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔ ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

کورونا وائرس کی بیشتر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں۔ اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ادویات دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔ تاہم چین میں پھیلنے والا وائرس نوول کورونا وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔

ہلاکتیں و متاثرہ علاقے کا دائرہ

کورونا وائرس کے باعث چین سے باہر پہلی ہلاکت فلپائن میں رپورٹ ہوئی ہے، جہاں 44 سالہ چینی دم توڑ گیا تھا۔ جبکہ چین میں ہلاکتوں کی تعداد 367 سے تجاوز کرچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ میں اب تک 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو چین کے شہر ووہان سے تھائی لینڈ پہنچے تھے اور تمام مریض زیر علاج ہیں۔ جاپان کے بعد تھائی لینڈ دوسرا ملک ہے جو چین کے باہر کورونا وائرس سے متاثرہ ہونے والے زیادہ مریض موجود ہے اور جاپان میں 20 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ یہ وائرس 24 ممالک تک پھیل چکا ہے۔

چین کے صوبے ژجیانگ کے مشرقی علاقے میں 90 لاکھ افراد پر مشتمل شہر ونژو کو بند کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہدایات کے مطابق ایک گھر کے صرف ایک رہائشی کو ہر 2 روز بعد ضروری اشیا کی خریداری کے لیے گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے جبکہ 46 ہائی وے ٹول اسٹیشنز بند کردیے گئے ہیں۔ اس سے قبل شہر میں سنیما اور میوزیم بند جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل کی گئی تھی۔ چین کے صوبے ہوبے کے علاوہ ژجیانگ میں سب سے زیادہ 661 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں سے ونژو میں 265 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور اسرائیل نے اس وقت چین میں موجود غیر ملکی شہریوں کی آمد پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ اپنے شہریوں کو چین کے سفر سے روک دیا ہے۔ منگولیا، روس اور نیپال نے اپنی زمینی سرحدیں بند کردیں جبکہ پاپوا نیو گنی نے بندرگاہوں یا ایئرپورٹس کے ذریعے ایشیا سے آنے والے افراد کی آمد پر پابندی عائد کردی۔

اگرچہ احتیاطی اقدامات سے وائرس کے پھیلاؤ میں سستی آئی ہے لیکن اس کا پھیلاؤ رکا نہیں ہے، برطانیہ، روس اور سویڈن نے بھی اپنے ممالک میں کورونا وائرس کے پہلے کیسز کی تصدیق کی تھی۔

چین میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 03-2002 میں سامنے آنے والی وبا سارس سے زیادہ ہے، سارس سے دنیا بھر میں 774 افراد ہلاک ہوئے تھے جن کی اکثریت کا تعلق چین اور ہانگ کانگ سے تھا۔ سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوارن 57 افرا ہلاک ہوئے ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد 17ہزار238 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مشتبہ افراد کی تعداد21 ہزار سے تجاوز کر گئی اور سب سے زیادہ تعداد چین میں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثرہ 475 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور تھائی لینڈ میں بھی اس وائرس کے علاج میں ابتدائی کامیابی سے مثبت نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ کورونا وائرس  سے اب تک دنیا کے 27 ممالک متاثر ہوچکے ہیں جب کہ ووہان سے فرانس پہنچنے والے 20افراد میں بھی اس مرض کی علامات پائی گئی ہیں۔ آسٹریلیا12، کمبوڈیا1، کینیڈا4، چین17205، فن لینڈ1، فرانس6، جرمنی8، بھارت2، اٹلی2، جاپان 20، ملائیشیا8، نیپال1، فلپائن2، روس2، سنگاپور18، جنوبی کوریا15، سپین1، سری لنکا1، سویڈن1، تائیوان10، تھائی لینڈ19، دبئی 5، برطانیہ2، امریکہ8 اور ویتنام میں بھی8 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/02/04/4569

Leave A Reply

Your email address will not be published.