نادرا میں نئے بھرتی ہونے والے فاٹا امیدوار دربدر ہو گئے

NADRA-Logo

اسلام آباد: قبائلی اضلاع کے نادرا میں بھرتی کیے گئے 100 سے زائد امیدوار رُل گئے۔ 14 روز گزر جانے کے باوجود ان کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق نادرا نے انہی نشستوں پر نئی بھرتیوں کیلیے اشتہار جاری کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔۔

حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو روز گار کی فراہمی کے دعوے مگر حقائق اس کے بالکل برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔ نادرا میں بھرتی کیے گئے 100 سے زائد امیداروں کے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی بجائے اپوئنٹ کے فوری بعد ادارے سے نکال دیا گیا ہے۔ امیدواروں کو اپوائنٹمنٹ منسوخی کی اطلاع نادرا  پشاور آفس کے ایچ آر ڈیپارٹمننٹ کی جانب سے بذریعہ ٹیلی فون دی گئی۔

مزید پڑھیں: نادرا میں نئے بھرتی ہونے والے امیدواران سیٹ سنبھالنے سے قبل ہی برخاستگی کے خطرے سے دوچار

ذرائع کے مطابق نادرا حکام ٹمپریری ڈسپلیسڈ پرسنز – ایمرجنسی ریلیف پراجیکٹ میں میرٹ پر منتخب ہونے والے امیدواروں کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ادارے میں میرٹ پر بھرتی ہونے والے امیدواروں کو صرف 6 دن بعد 27 جنوری کو بذریعہ فون اپوائنٹمنٹ منسوخی کا بتایا گیا۔ 21 جنوری کو نادرا میں اپوائنٹ کیے گئے امیداواروں کو 14 روز گزرنے کے باوجود ان کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

سرکاری قوانین کے مطابق اپوئنٹمٹ کے 14 روز کے اندر اندر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو امیدواروں کی جوائنگ کی نوٹیفیکیشن رپورٹ بھجوانا لازمی ہے۔ ایسا نہ کرنا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق نادرا کی خیبرپختونخوا انتظامیہ امیدواران کو گزشتہ ہفتے سے ٹال رہی ہے۔

امیدواروں کا کہنا ہے کہ نوکری پر رکھا جا رہا ہے نہ ہی برخاستگی کی کوئی تحریری یا سرکاری دستاویز دی جا رہی ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ بھرتی کیے گئے امیدواروں کی اپوئنٹمنٹ منسوخی کے بعد انہی نشستوں پر دوبارہ بھرتیوں کیلیے اشتہار جاری کرنے کی بھی تیاریاں جاری ہیں۔

امیدواروں کا کہنا ہے کہ آخر انہی نشستوں پر نئی بھرتیاں کیوں اور کس کے کہنے پر کی جارہی ہیں؟ اگر امیدواروں کو اپوائنٹ کرنا مقصع نہیں تھا تو انٹریوز اور اپوائنٹمنٹ لیٹرز ایشو کرنےکا کیا جواز تھا؟ متعدد امیدواروں نے دوسری نوکریاں چھوڑ کر پروجیکٹ جوائن کیا تھا۔

متاثرہ امیدواروں نے وزیراعظم عمران خان اور دیگر متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/04/4596

متعلقہ خبریں

Leave a Comment