ٹرمپ کے مشرق وسطی امن منصوبے کو روس نے بھی مسترد کر دیا

روسی صدر ولا دیمر پوتن  کے نمائندہ خصوصی  الیگزنڈر لاورینٹیف   کا کہنا ہے کہ متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کا نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبہ نا قابل عمل ہے۔

فلسطینی سرکاری خبر ایجنسی وافا کے مطابق  صدرِ فلسطین محمود عباس نے  روسی خصوصی نمائندے کو مقبوضہ  دریائے اردن کی پٹی پر واقع راملہ شہر میں  صدارتی محل میں شرفِ ملاقات بخشا۔ عباس نے اس موقع پر کہا کہ نام  نہاد منصوبے کو عرب و اسلامی مملکتوں نے "بین الاقوامی مشروطیت اور عالمی قوانین کے منافی ہونے اور سن 1967  میں وضع کردہ سرحدوں  کے اندر دارالحکومت  مشرقی القدس  ہونےو الی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا ہدف بنانے والے سیاسی سلسلے کی بنیادوں  کی خلاف ورزی کرنے” کے  جواز میں مسترد کر دیا گیا ہے۔

عباس نے   بتایا کہ روس نے بھی مذکورہ  امن منصوبے کو  مسترد  کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ باعث ِ ستائش  ہے۔ اس موقع پر صدر ِ روس کے نمائندہ خصوصی  لاورینٹیف   نے  بھی دعوی ٰ فلسطین کے حل کے حق میں اپنے  ملک کے موقف کو بیان کرتے ہوئے   عالمی قوانین  پر عمل درآمد کے دائرہ کار میں دو مملکتی حل کےاصول پر کار بند ہونے  کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر  کے نام نہاد امن منصوبے  پر عمل درآمد نا ممکن ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/05/4701

متعلقہ خبریں

Leave a Comment