ریلوے کی زمین پر بڑی عمارتیں ایک ہفتے میں گرائیں: سپریم کورٹ

Karachi-Circular-Railway-06-02-2020

کراچی: سرکلر ریلوے بحالی کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ کراچی سرکلر ریلوے چلے۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کی زمین پر بڑی بڑی عمارتوں کو ایک ہفتے میں گرائیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کی بحالی سے متعلق معاملے کی سماعت کی۔ کیس کی سماعت پر سیکریٹری ریلوے، کمشنر، میئر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر حکام پیش ہوئے۔

سماعت میں چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کی بحالی سے متعلق حکم پر عمل درآمد ہوا یا نہیں؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو 5 ستمبر 2019 کا حکم پڑھ کر سنایا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے ایک ماہ میں سرکلر اور لوکل ٹرین بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ پروجیکٹ اب سی پیک میں شامل ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم فریم ورک مکمل کر کے وفاقی حکومت کو 3 دفعہ بھیج چکے ہیں۔ سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ ہم تاخیر نہیں کر رہے اور جو ذمہ داری ہے، پوری کر رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت سرکلر ریلوے چلانا ہی نہیں چاہتی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی وزیراعلیٰ سندھ، سیکریٹری ریلوے، میئر کراچی اور کمشنر کراچی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میرے ساتھ چلیں، میں بتاتا ہوں کہ کیسے کام ہوتا ہے۔ آپ لوگ ذمہ داری پوری نہیں کرنا چاہتے۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سیکریٹری (ریلوے) غلط بیانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کا خاتمہ اور زمین سندھ حکومت کے حوالے کرنا ریلوے کی ذمہ داری تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا بھی یہی عالم ہو گا۔ آج کچھ کہہ رہے ہیں، کل کچھ اور کہیں گے۔

اس دوران عدالت میں موجود وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے بتایا کہ امیروں کی عمارتیں نہیں گرائی گئیں بلکہ صرف غریبوں کو بے گھر کر دیا گیا۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 6،500 لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ بڑے بڑے پلازے نہیں گرائے جا رہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو کس نے اختیار دیا تھا کہ جا کر قبضہ کریں۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ نہیں گرائیں گے۔ ان کا مفاد ہی اسی میں ہے۔ جائیں ابھی جا کر سب غیرقانونی عمارتوں پر بلڈوزر پھیر دیں، لیکن آپ لوگ لوگوں کو سہولت ہی نہیں دینا چاہتے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے کی سخت سرزنش کی اور ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے بابو کی طرح بات نہ کریں، کہاںیاں مت سنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا ہمیں صرف یہ بتائیں کہ سرکلر ریلوے کیوں نہیں چلا۔ اس پر سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ سندھ حکومت رکاوٹ ہے۔ جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے؟ اس پر سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ معاہدے کے مطابق اب سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی وزیراعلیٰ کو بلا کر پوچھتے ہیں کہ کس کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے سیکریٹری ریلوے سے پوچھا کہ آپ بتائیں سرکلر ریلوے کی زمین آپ نے سندھ حکومت کو دے دی؟ جس پر سیکریٹری ریلوے نے عدالت میں کہا کہ گرین لائن بن گئی ہے، لیکن سرکلر ریلوے نہیں چل سکتی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ برسوں سے صرف اجلاس چل رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکالا گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایک اور معاملے پر کہا کہ میئر کہاں ہیں؟ ذرا قریب آجائیں۔ یہ شہر تو آپ کی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جیلانی اسٹیشن کو ازسر نو ڈیزائن کریں اور بحال کریں۔ سماعت کے دوران عدالتی ریمارکس پر کمشنر کراچی نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ جو بھی ہے ریلوے کے پاس ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے تو کچھ نہیں ہوگا۔

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کی زمین پر بڑی بڑی عمارتیں بن گئی ہیں جاکر ایک ہفتے میں گرائیں۔ جس پر کمشنر نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے رکھے ہیں۔ اس پر عدالت نے کمشنر کراچی سے کہا کہ آپ جاکر گرائیں اور کہیں کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ایکنک کی جانب سے سرکلر ریلوے سندھ حکومت کو دینے سے متعلق دستاویز کی کاپی طلب کرلی اور سیکریٹری ریلوے کو آدھے گھنٹے کی مہلت دے دی۔

Karachi-Circular-Railway-Map-06-02-2020
سرکلر ریلوے کراچی کا نقشہ
آئی ڈی: 2020/02/06/4791

متعلقہ خبریں

Leave a Comment