ٹی ٹی پی نے کمانڈر شیخ ابو محمد خالد حقانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

TTP has released a picture of Khalid Haqqani

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام کے مطابق کمانڈر شیخ ابو محمد خالد حقانی اور ان کے ایک اور ساتھی قاری سیف اللہ پشاوری31 جنوری 2020 کو امریکی فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔

 خالد حقانی تحریک طالبان پاکستان کی رہبری شوریٰ کے رکن تھے۔ 31 جنوری 2020 کو وہ کچھ ساتھیوں کے ہمراہ ایک تشکیل کے سلسلہ میں  سفر کر رہے تھے جہاں امریکی فوج کی ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے ۔

خالد حقانی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تھا۔ وہ  اکوڑہ خٹک کے دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل تھے۔ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نائب سربراہ بھی رہ چکے تھے۔

خالد شیخ حقانی حکیم اللہ محسود اور قاری حسین محسود کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ تحریک طالبان میں خالد حقانی کو ایک مذہبی مفکر اور سکالر کی حیثیت سے بہت عزت دی جاتی تھی۔ وہ ایک سخت گیر اور تجربہ کار کمانڈر کے طور پر کالعدم گروہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت سے قبل وہ اپنے ہی عسکریت پسند گروہ حقانی طالبان کے سربراہ تھے۔ علاوہ ازیں خالد حقانی پر 2008  میں چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا الزام بھی عائد ہے۔ 22 دسمبر2012  کو اے این پی رہنما بشیر احمد بلور کی موت کا سبب بننے والے خود کش حملے کا الزام بھی خالد حقانی پر عائد کیا جاتا ہے۔

خالد حقانی جمہوریت اور سیکولرازم کے شدید مخالف تھے۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا کے خلاف ایک فتویٰ بھی لکھا تھا جس کی رو سے میڈیا کو مختلف گروپوں میں تقسیم کر کے کچھ صحافیوں کے قتل کو جائز قرار دیا تھا۔

جاری کردہ پیغام  میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کمانڈر خالد حقانی کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

Zahra Kazmi

 

 زہرا کاظمی فری لانس ریسرچر اور انویسٹی گیٹو جرنلسٹ ہیں۔

 

 

آئی ڈی: 2020/02/06/4914 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment