امریکی کی یمن میں بڑی کامیابی، اہم القاعدہ رہنما ہلاک


بدھ کے روز امریکی صدر نے اپنے ایک ٹویٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یمن میں موجود القاعدہ رہنما قاسم الریمی کو انسداد دہشت گردی کی ٹیم نے ہلاک کر دیا ہے۔

قاسم الریمی پر امریکی فلوریڈا فوجی بیس میں فائرنگ واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔  فائرنگ کے اس واقعے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔قاسم الریمی کی ہلاکت پر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو کہا کہ اب دنیا محفوظ ہو گئی ہے۔  لیکن دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع اور سی آئی اے نے قاسم کی ہلاکت پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

قاسم الریمی القاعدہ کے بانی ارکان میں جانے جاتے تھے۔ قاسم نے جزیرہ عرب میں القاعدہ کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

06 دسمبر امریکی فلوریڈا بیس فائرنگ واقعہ کے بعد قاسم الریمی نے اس حملے کی ذمہ داری اپنے 18 منٹ کے ایک ویڈیو پیغام میں قبول کر لی تھی جس میں قاسم الریمی نے فائرنگ واقے میں ملوث سعودی فوجی محمد الشمرانی کو ایک ہیرو قرار دیا تھا۔فائرنگ کے واقعے میں 03 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کے بعد امریکہ نے سعودی عرب کے تمام زیرِ تربیت فوجیوں کو امریکہ بدر کر دیا تھا۔

قاسم الریمی کو ایمن الظواہری کا جانشین کہا جاتا رہا ہے، ایمن الظواہری القاعدہ کے بانی رکن ہیں اور روپوش ہیں۔

2013 میں الریمی نے امریکی عوام کے نام ایک پیغام میں کہا تھا کہ” تم اپنی سلامتی دوسری قوموں پر حملے کر کے اور انکو تباہ کر کے حاصل نہیں حاصل کر سکتے تم ہم کو ہمارے حال پر چھوڑ دو اور تم اپنے معاملات کو دیکھو” ۔

یمن 2015 سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکی سیکرٹری ، مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ یمن میں حالیہ تشدد میں اضافے سے امریکہ گھبرا گیا ہے۔

پومپیو نے کہا ، یہ تشدد "عدم استحکام پیدا کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ اور دیگر بدنما اداکار اپنے مقاصد کے لئے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔”

 

آئی ڈی: 2020/02/07/4853


Leave A Reply

Your email address will not be published.