قبائلی نوجوانوں کی نادرا سے برطرفی؛ ’خبرنامے‘ کی خبر کی گونج سینیٹ تک پہنچ گئی

اسلام آباد: فاٹا کے نوجوانوں کے لیے ’’خبرنامے‘‘ کی جانب سے اٹھائی گئی آواز کی گونج سینیٹ تک پہنچ گئی۔ سینیٹ میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نادرا نے فاٹا قبائل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے بعد بذریعہ فون برخاست کرنے کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فاٹا کے نوجوانوں کے ساتھ بہت زیادتی ہے اور اس کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے معاملہ کمیٹی کو بھجوانے کی بھی استدعا کی ۔

ان کی استدعا پر چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے چئیرمین نادراسے رپورٹ طلب کر لی۔

مزید پڑھیں: نادرا نے بھرتی کیے گئے امیدواروں کو ایک دن بعد ہی نوکری سے نکال دیا

یاد رہے اس حوالے سے خبرنامے نے 29 جنوری کو ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ نادرا نے ٹیمپریری ڈسپلیسڈ پرسنز – ایمرجنسی ریلیف پروجیکٹ پر ایک سال کے لیے بھرتی کیے گئے نوجوانوں کو جوائننگ سے قبل ہی برخاست کر دیا ہے۔ اس حوالے سے فاٹا کے ممبران اسمبلی کی جانب سے چئیرمین نادرا کو لکھا گیا ایک خط بھی سامنے آیا  (جس کی نقل خبرنامے کے پاس موجود ہے)جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس پروجیکٹ پر کی گئی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: نادرا میں نئے بھرتی ہونے والے امیدواران سیٹ سنبھالنے سے قبل ہی برخاستگی کے خطرے سے دوچار

اس ضمن میں سینیٹر تاج آفریدی کے سٹاف سے رابطہ کرنے پر ان کے سٹاف نے اس خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خط فاٹا ممبران کے دستخط ہوتے ہی چئیرمین نادرا کو بھجوا دیا جائے گا اور اس ضمن میں اب تک چئیرمین نادرا سے بات چیت بذریعہ فون ہی کی گئی ہے۔

واضح رہے ان تقرریوں کے خلاف وزیر اعظم پورٹل پر ایک شکایت بھی درج کی گئی تھی، لیکن نادرا حکام کی جانب سے اس شکایت کا جواب دیتے ہوئے ان تقرریوں کو قانون و ضوابط کے مطابق قرار دیا گیا۔

ان تقرریوں کی منسوخ کے حوالے سے تصدیق کے لیے نادرا کو 29 جنوری ہی کو ایک سوالنامہ بھی بھیجا گیا جس کا جواب تاحال موصول نہیں ہو سکا۔

آئی ڈی: 2020/02/07/4862

اپنا تبصرہ بھیجیں