پلاٹ میرے نام کر دیں، ڈپٹی کمشنر نے نیا پنڈورہ بکس کھول دیا

Hamza-Shafqaat-DC-Islamabad

اسلام آباد: ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات ایک صحافی کی مبینہ بلیک میلنگ کے حوالے سے الزامات سامنے لے آئے ہیں۔ حمزہ شفقات کے مطابق ان کے دفتر میں ایک صحافی آتے رہے، جو چاہتے تھے کہ بیرون ملک جانے والی ایک بوڑھی خاتون کا ایک ہاوسنگ سوسائٹی میں واقع پلاٹ انہیں دے دیا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر فیصل نے کیس کے بارے میں انکوائری کرنے کے بعد رپورٹ دی کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ اس پلاٹ کی ملکیت کا تمام تر ریکارڈ موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے فیس بک پر  ایک صحافی کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ ایک صحافی کی جانب سے انہیں ایک پلاٹ پر قبضہ دلوانے کے لیے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ حمزہ شفقات کے پیغام کے مطابق ایک صحافی ان کے دفتر میں آتے رہے، جو چاہتے تھے کہ ایک ہاوسنگ سوسائٹی کو اس بات کے لیے مجبور کیا جائے کہ اس میں واقع ایک بیرون ملک مقیم خاتون کا پلاٹ انہیں دے دیا جائے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر فیصل نے مکمل انکوائری کی اور یہ رپورٹ دی کہ ایسا کرنا سراسر زیادتی ہو گی کیونکہ اس کی ملکیت کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ چنانچہ ایسا کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اس کیس کی ایک ایک دن کی کارروائی نوٹ کی جاتی رہی۔

ان کے مطابق یہ صحافی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ، حتی کہ سرکل رجسٹرار سے بھی ملاقات کرتے رہے تاکہ انہیں اخبار کے لیے اشتہارات دئیے جائیں۔ اس کے علاوہ مذکور صحافی ایسے احسانات اور فرمائشیں طلب کرتے رہے جو پوری نہیں کی جا سکتی تھیں، کیونکہ وہ سب قانون کے خلاف تھیں۔ ہر افسر نے مذکوہ صحافی کو بتایا کہ ایسا کرنا ممکن نہیں۔

ڈی سی اسلام آباد کے پیغام کے مطابق مذکورہ صحافی نے، اس کے بعد مختلف اخباروں میں جعلی خبریں چھاپنا شروع کر دی ہیں۔ ان خبروں میں سے ایک کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آج اس صحافی نے لکھا ہے کہ ہم پناہ گاہیں چلانے کے لئے بھتے کی رقم جمع کر رہے ہیں۔ حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ اگر میرے بارے میں لکھا جاتا تو خیر تھی، لیکن اللہ کی رضا کے لئے کیے جانے والے کام پر  جھوٹا الزام لگانا بہت بڑا ظلم ہے۔حمزہ شفقات نے اس طرح جعلی خبروں اور کہانیوں کو افسران کے لیے مایوس کن قرار دے دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اس حوالے سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ کیا انتظامیہ اتنی کمزور ہے۔ لیکن انتظامیہ قانون کے مطابق ہی چل سکتی ہے۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے کوئی ایسا فورم نہیں جو جعلی خبروں کے حوالے سے فوری انصاف دے سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس عدالت جانے کا حق موجود ہے، لیکن یہ ایک طویل عمل ہے اور افسران کے پاس وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کے لئے رقم نہیں ہے۔ عدالت میں جب تک کچھ تاریخیں گزرتی ہیں، افسران کا ٹرانسفر کا ٹائم آ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں ایسے افسران کو دیکھا ہے جو جعلی خبروں کا شکار تھے اور غلط خبر کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی لیکن بعد میں یہ خبر جعلی نکلیں۔

حمزہ شفقات نے یہ وضاحت بھی دی ہے کہ تمام صحافی ایسے نہیں ہیں۔ ان میں اکثریت بہت محنتی اور باعزت افراد کی ہے جو سارا سارا دن سچ کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ تمام چیز عوام کے سامنے بھی رکھنی چاہئے اور سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کو ایکسپوز کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد اس حوالے سے تمام ریکارڈ، ثبوت اور تصاویر منظر عام پر لے آئیں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/08/4906

متعلقہ خبریں

Leave a Comment