کرونا وائرس نمونیا، چین سنبھل رہا ہے

محمد عمران


ہمسایہ ملک چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ باقی دنیا میں بھی وائرس کا شکار افراد کی تفصیلات روزانہ کی بنیاد پر سامنے آرہی ہیں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ چین اور دیگر ملکوں میں کرونا کا شکار بننے والوں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو صحت یاب ہورہے ہیں۔ چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے کرونا وائرس سے ہونے والے بیماری کو عارضی طور پر کرونا وائرس نمونیا کا نام دے دیا ہے۔

دو ہزار تین میں سارس وائرس کیخلاف کامیابی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے چینی حکومت کرونا وائرس کیخلاف جنگ کم سے کم وقت میں جیتنے کیلئے پر عزم ہے۔ کرونا وائرس نمونیا کے پھیلاو کو روکنے کیلئے اب تک چینی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت عالمی اداروں نے سراہا ہے۔ وہان میں دس روز میں سولہ سو بیڈز پر مشتمل اسپتال میں جدید طبی آلات کی تنصیب کی گئی۔ وہاں میڈیکل سٹاف کا پہلا دستہ اسپتال پہنچ چکا ہے اور جلد یہاں مریضوں کو داخل کرنے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

اب تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو چین کے علاوہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں سے ایک بھارت ہے جہاں کرونا کے تین کیسز موجود ہیں۔ اسے پاکستان اور چین کے درمیان بہترین تعاون اور اعلی سطح پر کوششوں کا نتیجہ کہیں یا پھر اللہ کی رحمت کہ ہزاروں کی تعداد میں چینی ورکرز کی ملک کے مختلف حصوں میں موجودگی اور حالیہ دنوں میں سینکڑوں پاکستانیوں کی چین کے مختلف شہروں سے واپسی کے باوجود اس تیزی سے پھیلنے والے وائرس کی کہیں تصدیق نہیں ہوئی۔

گزشتہ ہفتے کے دوران انٹرنیشنل میڈیا اور خاص کر پاکستانی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹنگ کے باعث چین میں موجود کچھ پاکستانی طلبا اور ان کے خاندان کے افراد میں کچھ بے چینی دیکھنے میں آئی لیکن اکثریت نے مشکل وقت میں چینی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں اپنے آل ویدر فرینڈ کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی۔ طلبا،بزنس کمیونٹی اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ افراد کے بلند حوصلے نے خوف کی اس لہر کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ فلائٹ آپریشن کی بحالی سے مختلف ائیرپورٹس پر روانگی کے منتظر افراد کی واپسی نے بھی میڈیا میں پھیلی سنسنی کو کافی حد تک کم کیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ ایسا مواد بھی دیکھنے میں آیا کہ طلبا کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے یا فنڈز میں کسی قسم کا تعطل آیا ہے۔ سال نو اور جشن بہاراں کی تقریبات کے سلسلے میں عام طور پر جنوری اور فروری کے پہلے پندرہ دن چین میں تعطیلات ہوتی ہیں۔ ووہان میں موجود طلبا کے مطابق سکالرشپ پر پڑھنے والے طلباکو ان دو ماہ کا وظیفہ چھٹیوں سے پہلے ہی دے دیا جاتا ہے۔ ہیلتھ ایمرجنسی کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طلبا کو کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء ان کے کمروں میں پہنچائی جارہی ہیں۔

سسمٹرز کے آغاز میں تاخیر کی وجہ سے یونیورسٹی ہاسٹلز میں موجود طلبا کی پریشانی اب اس لئے کم ہوچکی ہے کیونکہ انتظامیہ کی طرف سے صورتحال کی بہتری تک آن لائن کلاسز شروع کئے جانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس بروقت فیصلے کی وجہ سے طلبا کا تعلیمی حرج نہیں ہوگا۔ اب جو جہاں موجود ہے وہیں آن لائن لیکچر لے سکتا ہے۔ تھیسسز اور ریسرچ ورک میں معاونت کیلئے بھی اساتذہ سے ای میل اور دیگر جدید زرائع سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/08/4944

Leave A Reply

Your email address will not be published.