چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی اپنے استعفی کے حوالے سے گو مگو کی صورتحال کا شکار

اسلام آباد: چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی اپنے استعفی کے حوالے سے گو مگو کی صورتحال کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم کو چیئرمین کا عہدہ نہ سنبھالنے کے حوالے سے آگاہ کر دیا ہے اور اب وہ ایف بی آر میں مزید ذمہ داریاں نہیں نبھائیں گے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک ہی ماہ کے فرق سے دو بار چھٹیوں پر جانے والے چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی اور وزارت خزانہ کے درمیان شدید اختلافات چل رہے تھے، جس کی وجہ سے شبر زیدی انتہائی دباو میں تھے۔ اگرچہ ان کی جانب سے ان افواہوں کی تردید بھی کی گئی کہ ایسا کوئی اختلاف موجود نہیں، لیکن دو بار چھٹیوں پر جانے نے معاملہ مشکوک کر دیا۔

مزید پڑھیں: شبر زیدی نے ایک ماہ کے اندر دوسری مرتبہ چھٹی کے لیے درخواست دے دی

واضح رہے پہلی رخصت پر جانے کے بعد شبر زیدی کا ٹوئیٹر اکاونٹ ‘محدود’ ہو گیا تھا۔ مزید بر آں شبر زیدی کے رخصت پر جانے سے پہلے ہی یہ افواہیں گرم ہو چکی تھیں کہ شبر زیدی اب واپس نہیں آئیں گے۔ لیکن انہوں نے رخصت ختم ہونے کے بعد ٹوئیٹر اکاونٹ پر ایک پیغام میں یہ تاثر زائل کر دیا۔
شبر زیدی نے اپنے استعفے کے حوالے سے گرم ہونے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شدید بیمار ہیں اور فی الحال اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔ شبر زیدی نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیا۔

دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وزارت خزانہ اور سٹیٹ بنک میں بھی اہم ترین عہدوں پر تبدیلیوں کا امکان ہے۔ انتہائی قابل اعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر، دونوں کو اپنے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ مشیر خزانہ کے عہدے کے لیے جن متوقع امیدواران کا نام لیا جا رہا ہے، ان میں موجودہ گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر اور ڈاکٹر شمشاد اختر شامل ہیں۔ یہ بھی توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ عبد الحفیظ شیخ کی جگہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو مشیر خزانہ کے عہدے پر فائز کیا جا سکتا ہے۔ یہ تبدیلیاں متوقع طور پر آئی ایم ایف کے دوسرے ریویو، جو 13 فروری کو ختم ہو رہا ہے، کے بعد کی جا سکتی ہیں۔
واضح رہے وزیر اعظم مشیر خزانہ کی تبدیلی کے حوالے سے اس افواہ کی تردید کر چکے ہیں کہ انہیں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

آئی ڈی: 2020/02/11/5032

اپنا تبصرہ بھیجیں