بنگلہ دیش میں کشتی ڈوبنے سے 12 روہنگیا جاں بحق

بنگلہ دیش کے ساحل پر منگل کو ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم بارہ روہنگیا مہاجرین جاں بحق ہو گئے ہیں۔
کشتی میں 120 سے زائد پناہ گزیں سوار تھے، جو خلیج بنگال سے ملائیشیا جانے کی کوشش کررہے تھے۔ 60 افراد کو بچالیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پناہ گزیں انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آگئے تھے۔
واضح رہے اگست 2017 سے کاکسز بازار میں قائم مہاجر کیمپوں میں سات لاکھ سے زائد روہنگیا آباد ہیں۔ وہ میانمار کی فوج کے ہاتھوں مظالم کی وجہ سے ریاست رخائن سے بھاگ نکلنے کے بعد یہاں آکر آباد ہوئے۔ متعدد روہنگیا پناہ گزیں ملائیشیا جانے کے لیے خطرناک سمندری سفر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن انھیں بنگلہ دیش کے ساحلی محافظ اس سے روکتے ہیں۔
یاد رہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک ملین ہےاور روہنگیا مسلمان میانمار میں ایک بڑی اقلیت ہیں۔ میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تصور نہیں کرتی ہے، میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو ملک کے خاص حصے میں محدود کر رکھا ہے۔ ان کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ حکومت کے مظالم کی وجہ سے روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش، بھارت اور دیگر قریبی ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ ہجرت کے دوران روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف حادثات میں جاں بھی گنوا چکی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/12/5064

متعلقہ خبریں

Leave a Comment