امریکہ طالبان سے دوبارہ مذاکرات جلد شروع کرنے والا ہے


امریکہ کے دفاعی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ رواں ہفتے افغانستان میں بڑھتی شدت پسندی کو روکنے کے لیے افغان طالبان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کرے گی ۔ امن مذاکرات کی وجہ افغانستان میں بڑھتی کشیدگی کو روکنا ہے۔ یہ مذاکرات افغان طالبان اور ان کے اتحادیوں سے کیے جائیں گے ۔
ٹرمپ انتظامیہ افغان طالبان سےامن مذاکرات کر کے افغانستان سے امریکی افواج کا محفوظ انخلاء چاہتی ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 13000 سے 8000 تک کرنا چاہتی ہے۔ امریکی ڈیفنس سیکرٹری مارک ایسپر نیٹو فورسز کے ہیڈ کوارٹر میں نیٹو فورسز کے ڈیفنس منسٹر سے ملاقات کر رہے ہیں، جس میں افغانستان اور عراق کی موجود صورتحال کو زیرِ بحث لایا جا رہا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کے جلد از جلد انخلا کے بارے میں پرامید ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے فیلڈ کمانڈروں کی سفارشات کی بنیاد پر کہا ہے کہا امریکی افواج کی تعداد 8600 تک جانے پر ہم متفق ہیں، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہم اس تعداد سے اپنے کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ہمارا کام افغان آرمی کو تربیت دینا ہے۔
کچھ امریکی عہدیدار نے مزاکرات پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ منصوبہ عملی طور پر قابلِ عمل ہے بھی کہ نہیں، ان کا یہ بھی خدشہ ہے کہ طالبان اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ تمام طالبان کے تمام گروپس اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔امریکی حکام کو یہ بھی تشویش ہے کہ داعش سے وابستہ داعش خراسان چھوٹے طالبان گروپس کو امریکہ کے خلاف اس لڑائی میں شامل ہونے کی ترغیب دے کر اس معاہدے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
جمعہ کے روز امریکی جنرل جان ہیٹن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء حالات کی بنیاد پر ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کہ ابھی حالات بہتر ہیں اور ہم امید کی کرن کو دیکھ سکتے ہیں۔
افغان صدر اشرف عنی  نےمنگل کے روز ایک ٹویٹر پوسٹ میں کہا کہ ’’امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے انہیں بتایا ہے کہ طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے‘‘ ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پومپیو نے مجھے تشدد میں نمایاں کمی اور پائیدار امن لانے کے سلسلے میں طالبان کی تجاویز سے بھی آگاہ کیا ہے۔اشرف غنی نے ان تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے ۔
افغانستان میں مسلسل حملوں کے درمیان تشدد میں کمی کے ممکنہ معاہدوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ گزشتہ برس کے آخر میں ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے جاری مذاکرات کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے بعد طالبان کے مسلح حملوں شدت آ گئی۔ ان حملوں کئی امریکی اور افغان فوجی جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے طالبان کے ساتھ ایک جامع معاہدے کے خواہاں ہیں، جس سے خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کم ہو سکتی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/13/5129

Leave A Reply

Your email address will not be published.