ترک صدر رجب طیب اردوان دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

Recep Tayyip Erdoğan visits Pakistan

اسلام آباد: ترک صدر رجب طیب اردوان وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ اردوان کا استقبال کیا۔ ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔ اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استقبالی پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے۔ بعدازاں ترک صدر اور ان کی اہلیہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں ترک سفیر مصطفیٰ یرداکل نے کہا تھا کہ رجب طیب اردوان کا دورہ اسلام آباد تاریخی موقع ہے اور دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی جانب اہم قدم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) تکمیل کے مراحل میں ہے اور ترکی اس منصوبے میں قائم ہونے خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ترک صدر 13 سے 14 فروری کے دوران دونوں ممالک کے مابین ’روایتی یکجہتی اور تعلق‘ کے فروغ اور پاک-ترک اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید توسیع کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ دورہ پاکستان میں رجب طیب اردوان کے ہمراہ ان کے کابینہ اراکین، سینئر حکومتی عہدیداران، معروف ترک کاروباری شخصیات بھی ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پاکستان-ترکی ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) کے چھٹے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گی۔ علاوہ ازیں ترک صدر 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان-ترکی بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان ایچ ایل ایس سی سی اجلاس میں اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا بھی امکان ہے۔ رجب طیب اردوان دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترکی کو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ بننے کی دعوت دیے جانے کا بھی امکان ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان ترک کاروباری شخصیات کی جانب سے پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کے منصوبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں۔ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے تجاویز سے متعلق دفتر خارجہ نے کہا کہ ’دونوں فریقین اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں‘۔ بیان کے مطابق اسلاموفوبیا سے نمٹنے، اسلامی یکجہتی کے فروغ اور خطے کے امن، سیکیورٹی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ’متحرک تعاون‘ کے منصوبے بھی ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد کا ایک منفرد اور مستقل تعلق موجود ہے، دونوں برادرانہ ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے ثابت قدم رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔

قبل ازیں گزشتہ برس 11 اکتوبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 23 اکتوبر کو سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی مؤقف کی حمایت کریں گے۔
بعدازاں 17 اکتوبر کو ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ ان کا دورہ ملتوی ہوگیا ہے اور نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اس موقع پر دورہ ملتوی کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔ تاہم اس وقت ترکی شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن میں مصروف تھا جس کے باعث امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے تھے

 

آئی ڈی: 2020/02/13/5142

متعلقہ خبریں

Leave a Comment