افغان طالبان اور امریکہ میں امن معاہدہ اس مہینے کے آخر میں متوقع


افغان طالبان کو توقع ہے کہ اس مہینے کے آخر تک عالمی ضامنوں کی موجودگی میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں افغانستان میں جاری 18 سالہ جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
طالبان کے ایک اہم لیڈر مولوی عبدالسلام حنفی نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے باہمی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ قطر کے صدر مقام دوحہ میں معاہدے پر دستخطوں کی ایک تقریب کا اہتمام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے فوراً بعد امریکہ اور افغانستان 5000 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیں گے،جبکہ اس کے جواب میں طالبان اپنی حراست میں موجود تقریباً ایک ہزار قیدی چھوڑیں گے۔

تاہم واشنگٹن نے اپنے اس مؤقف پر زور دیا ہے کہ صرف اس صورت میں طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر آگے بڑھا جائے گا جب طالبان افغانستان میں تشدد میں سات روز کی کمی سے متعلق ہاہمی طور پر طے شدہ سمجھوتے پر کامیابی سے عمل درآمد کریں گے۔ امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ مختصر مدت کا یہ سمجھوتہ گزشتہ ہفتے ہوا تھا اور یہ بہت جلد نافذ ہو جائے گا تاہم، اس بارے میں کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ البتہ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ 22 فروری سے نافذ ہو گا۔

 

آئی ڈی: 2020/02/18/5257

Leave A Reply

Your email address will not be published.