افغان صدارتی الیکشن، کیا اشرف غنی جیت کر بھی ہار گئے؟


افغان صدارتی الیکشن میں جیت سے صدر اشرف غنی مضبوط ہونے کی بجائے بظاہر مزید کمزور ہوئے ہیں، جس کے اثرات طالبان کے ساتھ جنگ بندی کی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
منگل کی رات کابل میں کیے گئے الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق صدر اشرف غنی 923592 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے جبکہ ان کے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ کو 720841 ووٹ ملے۔ عبداللہ عبداللہ نے لگ بھگ دو لاکھ ووٹوں کے فرق پر مبنی ان نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ان نتائج کو ’انتخابی ڈاکہ اور لوگوں کے ساتھ دھوکہ‘ قرار دیا اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر الگ حکومت قائم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ اشرف غنی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایک متنازعہ الیکشن کے بعد اشرف غنی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ افغانستان میں طالبان جنگجو پہلے ہی کابل حکومت کو امریکا کی ‘کٹھ پتلی حکومت‘ قرار دیتے آئے ہیں۔ لیکن منگل انیس فروری کو افغان صدر نے اپنے خطاب میں تمام افغان دھڑوں سے متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین اور طالبان جنگجوؤں سے کہا کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے آگے بڑھیں۔ غنی نے کہا، ’’افغانستان کو متحد کرنے کا وقت آ چکا ہے۔‘‘ افغانستان میں بےتحاشا کرپشن اور خراب طرز حکمرانی نے اکثر لوگوں کو جمہوری عمل سے مایوس کیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے بقول افغان حکومت میں صدر اشرف غنی کی پوزیشن کمزور ہونے سے طالبان کی حوصلہ افزائی ہو گی اور کابل حکومت کے ساتھ ان کی متوقع بات چیت میں مزید مشکلات آ سکتی ہیں۔ اس سے قبل افغانستان میں 2014 کے صدارتی انتخابات کے بعد بھی اسی طرح کی خراب صورت حال دیکھنے میں آئی تھی۔ تب بھی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے ہی اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کیے تھے۔ بعد میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کی ثالثی میں دونوں رہنما شراکت اقتدار پر راضی ہو گئے تھے، جس کے تحت اشرف غنی سربراہ مملکت اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر پانچ سال کام کرتے رہے تھے۔ اس بار افغان الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی نتائج کے سرکاری اعلان میں بار بار تاخیر کی جاتی رہی اور یہ نتائج لگ بھگ پانچ ماہ بعد جاری کیے گئے۔ ان انتخابات میں ملک میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے ووٹروں کی شرکت بہت کم رہی تھی جبکہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کی بڑی شکایات بھی سامنے آئی تھیں۔

افغانستان کی کل آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے جبکہ ملک میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 96 لاکھ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں 27 لاکھ ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے بڑی تعداد میں ووٹ مسترد کیے جانے کے بعد صرف 18لاکھ ووٹوں کی گنتی کی بنیاد پر نتائج کاا  علان کیا گیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے توملک کی اکثریت نے یا تو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا یا اس سے باہر رہنے کو ترجیح دی۔ مبصرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ ملک میں طالبان اور داعش کے حملے اور بم دھماکے تو ہیں ہی، لیکن ساتھ ہی عوام میں سیاسی عمل سے مایوسی بھی ایک اہم پہلو ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/20/5337

Leave A Reply

Your email address will not be published.