جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں متنازعہ بیان؛ اٹارنی جنرل انور منصور مستعفی

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں متنازعہ بیان دینے پر حکومت کے مطالبے پر اٹارنی جنرل انور منصور نے استعفی دے دیا۔ انور منصور نے استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا۔  پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں بیان پر اٹارنی جنرل سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔  

اٹارنی جنرل نے خط میں لکھا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے مجھ سے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ استعفی پاکستان بارکونسل کے مطالبے پر دے رہا ہوں۔ افسوس ہے جس بار کونسل کا سربراہ ہوں، اسی نے استعفیٰ مانگا۔ انہوں نے جب اپنی برادری کے لوگ استعفیٰ مانگیں تو دینا پڑتا ہے.

دوسری جانب  حکومت نے اٹارنی جنرل کے بیان سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔ سیکرٹری قانون کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل سے استعفی طلب کیا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں بیان دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے بنچ کے سامنے غیر مجازبیان دیا۔ اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کو بتائے بغیر اور ہدایات لیے بغیر بیان دیا۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وفاقی حکومت اور درخواست گزار اعلی عدلیہ کی عزت کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت سابق اٹارنی جنرل کے بیان سے دستبردار ہوتی ہے۔  وفاقی حکومت رول آف لا، آئین اور آزاد عدلیہ پر یقین رکھتی ہے۔وفاقی حکومت نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی ۔ متفرق درخواست صدارتی ریفرنس سے متعلق مقدمے میں دائر کی گئی۔

 

آئی ڈی: 2020/02/20/5343

متعلقہ خبریں

Leave a Comment