کسٹمز کے چار افسران کو اپنے سنئیر افسر کے خلاف بیان ریکارڈ کروانے کا نوٹس جاری


اسلام آباد:فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے اربوں روپے کی انکوائری میں کسٹمز کے چار افسران کو اپنے سنئیر افسر کے خلاف بیان ریکارڈ کروانے کا نوٹس جاری کر دیا، دستیاب دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے نے ڈاکڑ اختر، جمیل ناصر خان، سعود عمران احمد اور سمیرا عمر کو 26فروری کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا ہے ان افسران نے اپنی آڈٹ روپوٹ میں انکشاف کیا تھا کہ تین سالوں 2011 سے2013 کے دوران 1188 کنٹیزز کو کلئیر کیا گیا جس کے دوران اربوں روپے کا ٹیکس معاف کیا گیا اور اس میں کسٹمز کے اعلی افسران ملوث ہیں اس وقت فیصل آباد کے کلیکٹر شوکت علی تھے اور ان پر دیگر متعد انکوائریاں بھی چل رہی ہیں واضح رہے کہ ایف آئی اے نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے پاکستان کسٹمز سروس کے سابق ڈی جی سمیت 29آفیشلز کی جائیداد سیمت سروس کی تفصیلات بھی طلب کی تھی افسران و اہلکاروں پر اختیارات کے ناجائز استعمال ،دوستوں کو نوازنے سمیت قومی خزانے اربوں کو اربوں کا نقصان پہچانے کے الزام ہے ان میں سابق ڈی جی کسٹمز شوکت ،سپریٹینڈنٹ عبدالرازق سمیجو ،لیاقت علی ،مشتاق احمد سکھرانا ،انسپکٹرز سمیت دیگر اہلکاروں کے ٹرانسفر پوسٹنگ ریکارڈ ،جائیداد کی تفصیلات اور ،بیرون ملک چھٹی کے حوالے سے تفصیلات مانگ لی ۔۔ایف آئی اے نے ڈی جی کسٹمز سے استفسار کیا ہے کہ وقار چیمہ ،زاہد رضا بخاری کو ملازمت سے فارغ کرنے کے باوجود کیش ریوارڈ سے کیوں نوازا گیا ،ڈی جی کسٹمز اٹیجلنس زاہد کھوکھر کو ہدایت کی گئی کہ معلومات کو فوری طور پر ایف آئی اے لاہور ارسال کی جائے ۔۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.