مجرا بند کرو

انعم ملک


یہ وہ مجرا ہے جو ہمارے معاشرے کے دو ٹکے کے اصولوں اور روایتوں کی وجہ سے غریب اور مڈل کلاس کے لوگ اپنی بیٹیوں سے کرواتے ہیں۔ چاہے پھر وہ اَن پڑھ ہوں یا پڑھی لکھی ،یا پھر چاہے گھریلو لڑکیاں ہو ں یا چاہے نوکری کرنے والی بظاہر بااختیار لڑکیاں ،سب ہی اس مجرے کی نظر پیش کی جاتے ہیں۔

یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں پر چند پیسے دے کر بیٹوں کی نیلامی کی جاتی ہے۔ ہم نے مجرا دیکھ کر پیسا دینےوالوں کے بارے میں سنا اور دیکھا ہے ۔یہ تو عجب دور کی غضب کہانی ہی بن گئی۔ پیسے بھی خود کے اور مجرا بھی اپنا۔۔ آخر ایسا کیوں اور کب تک چلے گا؟

ایک طرف ہم بیٹیوں کو رحمت کا درجہ دیتے ہیں، کہا جاتا ہے بیٹیاں اسی گھر میں پیدا ہوتی ہیں جس سے رب بہت خوش ہوتا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوجائیں تو ان کی شادی کردے) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہونگے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی النفقہ علی البنات(

لیکن ہماری بدقسمتی تو دیکھیں آج ہمارے معاشرے کی روایات نے انہیں والدین کے لیے وہ بیٹیاں رحمت سے زحمت بنا دی ہیں۔ زندگی، موت، رزق، شادی اور بچے یہ سب نصیب سےآپ کے مقررہ وقت پر ہی آپ کو ملتے ہیں۔ لاکھ کوششیں کر کے بھی وقت سے پہلے کبھی کچھ نہیں ملا۔ ہاں صحیح اور غلط، مشکل اور آسان، محنت اور شارٹ کٹ راستے یہ سب آپ کے اپنے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔ صبر سے کام لینے والوں کے راستے میں رکاوٹیں اور مشکلات ضرور آتی ہیں، لیکن وہ اپنی بالکل درست منزل مقصود تک پہنچتے ہیں۔ جلدبازی میں کیے گئے اکثر فیصلوں کی سنوائی عدالتوں میں چل رہی ہوتی ہے۔سب نا بھی ہوں تو بھی 100 میں سے 80 فیصد ایسے ہی ہوتے ہیں۔ دیر آید درست آید۔ یہ یونہی بلاوجہ ہی نہیں کہا گیا۔۔ آخر اس کے پیچھے کوئی تو حقیقت ہے ہر بات کا کوئی نا کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔

لیکن یہ سب والدین کو کیسے سمجھایا جائے؟ کیا کبھی کسی نے اس لڑکی سے پوچھایا جاننے کی کوشش کی کہ  آخر اس کے دل پر کیا گزرتی ہے، جب ایک کے بعد ایک اسے دیکھنے کے لیے آتا ہے۔ کبھی عجیب و غریب سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو کبھی ایسی نظروں کا ،جیسے وہ کوئی لڑکی نہیں، معذرت کے ساتھ کوئی مال خریدنے آئے ہیں ،تو کبھی خریدار مالک کوبنا بتائے اس کے مال کی فوٹو اتار کر لے جاتے ہیں کہ چلو باقی تبصرہ گھرکے باقی افراد کے ساتھ مل کر کرلیں گے کہ یہ ٹھیک ہے کہ نہیں۔ نمائش کا یہ عمل کتنا دردناک اور اذیت سے دوچار ہوتا ہے ،یہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ صرف وہی اندازہ لگا سکتا جس پر یہ سب بیت رہی ہوتی ہے۔

ایک طرف وہ طبقہ ہے جو پسند کی شادی کو غیرت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اس کے سخت خلاف ہوتے ہیں اور پھر وہی غیرتی لوگ غیر لوگوں کے آگے اپنی بیٹیوں کی نمائش کرتے ہیں۔ اور پھر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بظاہر پسند کی شادی کے حق میں ہوتے ہیں اور اگر بیٹا یا بیٹی کسی کو پسند کرلیں تو سارے جہاں کی خامیاں انہیں میں نکال کر انہیں پسند کی شادی کی اجازت دیکر بھی اپنے فیصلوں کی قید میں رکھتے ہیں۔ پھرآتے ہیں سب سے مہان لوگ جو پسند کی شادی کی اجازت ہی تب دیتے ہیں جب ان کی اولاد کی یا تو عمر نکل جاتی ہے یا پھر جسے وہ پسند کرتے ہیں ان کی شادی ہوچکی ہوتی ہے۔ مطلب آزادی دیکر بھی قید میں رکھنا ہمارے معاشرے کی سب بڑی مہارت ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔

اب ذرا میں  لفظ "نمائش” کی تھوڑی تشریح کرتی چلوں کہ  میں نے بارہا یہ لفظ استعمال کیوں کیا۔ جب آپ اپنی بیٹیوں کو سج سنور کے غیروں کے آگے بیٹھنے کا بولیں گےتو اسے نمائش کرنا نہیں تو کیا کہیں گے؟ یہاں تو جناب اگرآپ کو کوئی دیکھنے آ رہا ہو تو آپ کالا رنگ نہیں پہن سکتے ۔۔کیوں بھئی اگلے کیا سوچیں گے لڑکی سوگ منا رہی ہے۔۔باہر نکلو تو زیادہ میک اپ مت کیا کرو ،لوگ دیکھتے ہیں ،اور جب خود کسی کو گھر بلاو تو بیٹا تھوڑا سا سرخی پاوڈر ہی لگا لو ،منہ پر کیا سوچیں گے وہ لوگ، ارے بھئی کون لوگ ہو تم سب؟ لڑکی نا ہوگئی کوئی شوپیس ہوگئی ۔جسےجب چاہا اپنے مرضی سے سجا لیا اور لوگوں کے آگے پیش کر دیا۔ صحیح کہا ہے کہ یہ وہ مجرا ہے جہاں بس ناچ گانا نہیں ہوتا، نمائش پوری ہوتی ہے۔

یہ ایگزیبیشن لڑکوں کی کیوں نہیں ہوتی؟ پہلے لڑکی کے والدین لڑکے کے گھر جا کر اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ پہلے یہ سب پوچھ گچھ لڑکی کی نمائش تک مکمل کیوں نہیں ہوسکتی؟ کیوں لڑکیوں کو ہی دیکھ کر انہیں ریجیکٹ کیا جاتا ہے۔ پہلے لڑکے کی قابلیت شکل وصورت اور اخلاق کو کیوں نہیں دیکھا جاتا؟ لڑکا چاہیے جیسا بھی ہو دوسروں کی پھول جیسی بیٹیوں کو اس مقابلے میں اپنانے اور ریجیکٹ کرنے کا اختیار لڑکیوں کے والدین کو کیوں نہیں دیا جاتا۔ اپنے ایک بیٹے کیلئے دوسروں کی سینکڑوں بیٹیوں کے جائزے لیے جاتے ہیں۔ کیا آپ کی اپنی کوئی بیٹی نہیں ہوتی یا آپ بیٹیوں کے اس درد کو محسوس کرنا ہی نہیں چاہتے؟ خدا کے لیے رحم کریں خود پر بھی اور دوسروں پر بھی، لوگوں کی بیٹوں کو دیکھنا پرکھنا اور پھر ہزاروں خامیاں، کیڑے ،کبھی کالی، تو کبھی چھوٹی، کوئی موٹی تو کوئی ضرورت سے زیادہ کمزور، کسی کی چشمے لگے ہیں تو کسی کے سر کے بال سفید ہیں، کوئی پڑھی لکھی نہیں تو کوئی آخر نوکری ہی کیوں کررہی ہے، کسی کا گھر بہت تنگ گلی میں ہے تو کسی کی بہن کیوں گھر پر بیٹھی ہے، کسی کے باپ نے دوسری شادی کیوں کر لی تو کسی کی ماں کو طلاق کیوں ہوئی اور پھر کوئی جہیز نہیں دے سکتا تو کسی کا گھر کیوں چھوٹا ہے؟ آخر آپ اپنے بیٹوں کیلئے لڑکی کے نام پر تلاش کس کی کر رہے ہیں؟ یہ نمائش روزِ محشر آپ سب کو کتنی بھاری پڑے گی اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں خود بھی اسی کرب سے گزر رہی ہوں، جسے  میرے گھروالے سمجھ سکتے ہیں ،نہ یہ معاشرہ جہاں ہم رہ رہے ہیں۔ اب تو دوست احباب بھی میرے اس کرب کو مذاق کی میں اُڑا دیتے ہیں۔ لیکن میں اپنے ہی گھر میں یہ مجرا کرتے کرتے روز جو نئی موت مرتی ہوں، وہ میری جیسی ہزاروں لڑکیوں کے ارمان، حوصلے اور زندگی میں کچھ کر گزرنے کے جنون کو دفناتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنا نصیب لکھوا کر آئے ہیں ،جو کوئی بھی ہم سے نہیں چھین سکتا۔ خدا کے لیے ہمیں جینے دو۔ ہمارے لیے یہ زمین تنگ مت کرو۔ ہمارے نصیب جب ،جہاں ،جس کے ساتھ جڑنے ہونگے جڑ جائیں گے۔ یہ مجرے بند کرو ۔۔اس سے پہلے یہ گندہ دھندہ بھی اتنا عام ہو جائے کہ اس دلدل سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، ذرا سوچیے!!!!!!

بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

حد سے مہرباں، بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

 

آئی ڈی: 2020/02/25/5560

Leave A Reply

Your email address will not be published.