نئی گج ڈیم کی تعمیر میں کرپشن کا اعتراف کر لیا گیا


ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی سندھ نے سپریم کورٹ میں نئی گج ڈیم کی تعمیر میں کرپشن کا اعتراف کر لیا۔  پانی کی قیمت اور استعمال کے طریقہ کار سے متعلق عملدرآمد کیس میں پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر چیف جسٹس گلزار احمد نے حکومت سندھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سب سے بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود سندھ والے پانی کو ترس رہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانی کی قیمت اور استعمال کے طریقہ کار سے متعلق کیس پر سماعت نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  سندھ ہر کام میں سب سے پیچھے کیوں ہوتا ہے؟  نئی گج ڈیم بنانے سے سندھ حکومت کو کون روک رہا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ نئی گج کیلئے جاری وفاق کے چھ ارب روپے بھی خرد برد ہو گئے۔

دوران سماعت ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی سندھ نے صوبے میں 64 چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کا بتایا۔ انھوں نے نئی گج ڈیم میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن نے 17 افراد کیخلاف کارروائی کیلئے اجازت مانگی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وزیر اعلی سندھ اینٹی کرپشن کو کارروائی کی اجازت دیں گے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سارے جہان کا گندا پانی کینجھر جھیل میں جا رہا ہے۔ سب سے بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود سندھ والے پانی کو ترس رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں۔ ایسی فصلیں لگائی جانی چاہئیں جو پانی کم پیتی ہوں۔ کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی ہمیں کپاس درآمد کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ کاشتکار مل مالکان کے دباؤ میں گنا کاشت کرتے ہیں۔  جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر انڈسٹری کو پانی مفت مل رہا ہے تو انہوں نے پانی کی قدر نہیں کرنی۔ یہ وہی بات ہو جائے گی کہ مال مفت دل بے رحم۔ لاہور، قصور، کراچی اور حیدر آباد میں زیر زمین پانی آلودہ ہو گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں سے سفارشات پر عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔

 

آئی ڈی: 2020/02/25/5636

Leave A Reply

Your email address will not be published.