لاہور سفاری پارک میں شیروں کا حملہ، نوجوان جاں بحق، باقیات برآمد

لاہور: لاہور کے سفاری پارک میں شیروں کے مبینہ حملے میں نوجوان کی ہلاکت ہوئی ہے، جو قریبی آبادی کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق دو دن قبل لاپتہ ہونے والے 18 سالہ بلال کے جسم کے اعضاء اور باقیات رائے ونڈ روڈ پر واقع سفاری پارک سے ملیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق نوجوان دو دن قبل سفاری پارک میں چارہ کاٹنے گیا تھا لیکن وہ پارک میں موجود 25 سے 30 شیروں کی خوارک بن گیا، جس کا انتظامیہ دو دن دن خبر تک نہ ہوئی۔
ذرائع کے مطابق سفاری پارک انتظامیہ کو لاش کی باقیات ملی ہیں جو مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے بلال کی ہیں۔ جاں بحق لڑکے کی باقیات تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجی جائیں گی۔ سفاری پارک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پارک میں 25 سے30 شیر کھلےچھوڑے جاتے ہیں جہاں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہے۔ دریں اثناء ہلاک ہونے والے بلال کے والد محمد شریف بلوچ نے ایس ایچ او تھانہ رائے ونڈ کو دی گئی درخواست میں کہنا ہے کہ ان کا بیٹا سفاری پارک کا جنگلہ عبور کر کے اندر داخل ہوا تھا، جسے شیروں نے کاٹ ڈالا۔ محمد شریف بلوچ نے مزید کہا ہے اس کے بیٹے کی ہلاکت میں پارک انتظامیہ کی کوئی غلطی نہیں ہے اور نہ ہی میں کوئی پولیس کارروائی کرنا چاہتا ہوں، اسے حکم الٰہی سمجھ کر قبول کرتا ہوں۔
اس سے قبل لاہورکے سفاری پارک میں شیروں کے حملے میں ہلاکت کا واقع سامنے آنے کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہو گئے تھے۔ مشتعل افراد نے سفاری پارک کے مین گیٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین نے سیکیورٹی گارڈز کے کمروں کے شیشے توڑ دیے تھے اور پارک انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی تھی۔