گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر بڑھنے سے ہوا: عبد الرزاق داود


سینٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار کو مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ کمپنیوں نے نہیں کیا بلکہ ٹیکس اور ڈالر کی قدر بڑھنے کا باعث ہوا۔  ملک میں گاڑیوں کی پیداوار پانچ لاکھ سالانہ پر پہنچے گی تو گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مقامی تیار گاڑیوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر تجارت عبد الرزاق داود نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ کمپنیوں نے نہیں کیا بلکہ ٹیکس اور ڈالر کی قدر بڑھنے کا باعث ہوا۔ ایک سال کی سست روی کے بعد اس سال جنوری سے گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ شروع ہو گیا ہے۔ سینیٹر بہرا مند تنگی نے کہا کہ مقامی گاڑی کا منافع بہت زیادہ ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گاڑیوں کے انجن باہر سے منگوائے جاتے ہیں۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے گاڑیاں 30 فیصد مہنگی ہوئیں۔

اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ ماضی میں ییلو کیب اسکیم درآمد شدہ گاڑیوں پر دی گئی۔ ملک کی پہلی یلو کیب اسکیم مقامی گاڑی پر نہ دینے سے گاڑیوں کی صنعت متاثر ہوئی۔ قیمتوں میں اضافہ کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا۔ مقامی پیداوار بڑھا کر ہی گاڑیوں کی قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں۔حکومت نے ایک طرف ٹیکس و ڈیوٹیز بڑھائیں تو دوسری طرف روپے کی قدر کم ہوئی۔ صنعت نے گاڑیوں کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ ٹیکس اور ڈالر کی قدر بڑھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں گاڑیوں کی پیداوار بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسز میں اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ ڈالر 100 سے بڑھ کر 160 روپے تک پہنچ گیا۔ جنوری میں گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ شروع ہو گیا ہے۔ پیدوارا 5 لاکھ تک پہنچ جائے، تو قیمتیں نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔

چیئرمین کمیٹی احمد خان نے کہاکہ پاکستان اسٹیل کے پینشنرز کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کے پنشنرز کے پاس علاج معالجے کے پیسے نہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کے پینشنرز کی میت  کفن دفن کے بغیر گھنٹوں پڑی رہی، ان کے مسائل حل کیے جائیں۔ ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز عمر لودھی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری میں 7 ارب روپے کی سیلز ہوئیں۔فروری میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی سیلز 6 ارب کے لگ بھگ ہیں۔ اس دوران اکاون لاکھ افراد یوٹیلٹی سٹورز سے مستفید ہوئے۔ ایک ماہ میں 67 کروڑ روپے کی سبسڈی لی گئی۔ یوٹیلٹی سٹورز سے عام مارکیٹ میں اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں۔ پہلی مرتبہ یوٹیلٹی سٹورز کو بہتر انداز میں استعمال کیا گیا۔ ہمارے ادارے کے منافع کی شرح پانچ فیصد ہے کو آٹھ یا نو فیصد ہونا چاہیے۔ رواں سال ستر سے پچھہتر نئے سٹورز کھولیں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/02/27/5783

Leave A Reply

Your email address will not be published.