کورونا 2020 میں حملہ آور ہو گا۔۔ 1981 کے ناول میں انکشاف

Dean Koontz-The Eyes of Darkness

آئے روز نت نئے انکشافات اور حقائق سامنے آتے رہتے ہیں جو انسانی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے اتفاقات بھی ہوتے ہیں جو ہمیں چونکا کر رکھ دیتے ہیں۔

کورونا وائرس، جو دنیا بھر میں تباہی مچا چکا ہے، کے حوالے سے اس کے حملہ آور ہوتے ہی سازشی تھیوریز سامنے آنے لگیں تھیں۔ کچھ جگہوں پر اسے ایک بائیولوجیکل ہتھیار قرار دیا گیا، جو چین کو سبق سکھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے ،تو کچھ کا کہنا تھا کہ یہ لیبارٹری میں تیار ہونے والا ایک وائرس تھا جو لیبارٹری سے کسی طرح باہر نکل گیا۔

بہرحال کچھ بھی ہو، اب ایک ایسا حیرت انگیز اتفاق سامنے آیا ہے جس نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 1981 میں ایک مصنف ڈین کوونٹز نے ایک تھرلر ناول لکھا جس کا نام تھا ’دی آئیز آف ڈارکنس‘۔ اس کتاب میں ڈین نے ایک جگہ پر چین کے شہر ووہان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک چینی سائنسدان کچھ اہم اور خفیہ دستاویزات کے ساتھ امریکہ بھاگ جاتا ہے۔ ان دستاویزات میں چین کے سب سے خطرناک بائیولوجیکل ہتھیار ’ووہان-400‘ کا تذکرہ موجود ہے جو سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ اسے ووہان-400 اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اسے ووہان کی ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔ ڈین کے مطابق یہ وائرس صرف انسانی جسم میں ایک مخصوص درجہ حرارت پر ہی زندہ رہتا ہے۔

اس حیرت انگیز بات کے بعد ڈین نے ایک اور جگہ یہ انکشاف کیا کہ 2020 میں نمونیا کی طرح کی ایک بیماری دنیا میں حملہ آور ہو گی، جو نظام تنفس پر حملہ کرے گی اور تمام دوائیں اس کے لیے بے اثر ہوں گی۔ ڈین کہتا ہے کہ بیماری کے حملہ آور ہونے سے زیادہ حیرت انگیز چیز یہ ہے کہ یہ بیماری جتنی جلدی حملہ آور ہو گی اس سے کہیں تیزی سے یہ غائب ہو جائے گی۔

واضح رہے کورونا وائرس ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی علامات میں  بخار، کھانسی یا سانس لینے میں مشکل ہونا  ہیں۔ کورونا سے اب تک 40 ممالک میں 2800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد پچھتر ہزار کے قریب ہے۔

Dean-Koontz-The eyes of Darkness-Corona 1981

آئی ڈی: 2020/02/27/5735

متعلقہ خبریں

Leave a Comment