کورونا وائرس؛ ایک عالمی دہشت

چین میں  کورونا وائرس نے چین  سمیت  پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے پوری دنیا کے لیے خطر ے کی گھنٹی بجا دی ہے۔  چین جو پوری دنیا کے لیے  اپنی مضبوط  معیشت  کی بدولت ایک عالمی طاقت بنتا جا رہا تھا، اب بذات خود ایک خوف اور دہشت کی علامت بن کر رہ گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کورونا کو بطور بائیولوجیکل ہتھیار ایک  سازش قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد چین کی ساکھ کو تباہ کرنا ہے، تو دوسری جانب اس کو مصنوعی لیبارٹری میں تیار کیا گیا وا ئرس قرار دیا جا رہا ہے۔

 اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کو فطرت سے بغاوت نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

چین میں جنم لینے والے کورونا وائرس  کے انسانی  حملے کے بعد دنیا بھر میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اب یہ ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا  ہے۔ کورونا سے اب تک 40 ممالک میں  2800 سے زاہد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرین کی تعداد پچھتر ہزار کے قریب  ہے۔

کورونا وائرس نے جہاں ہزاروں انسانی جانوں کو نگل لیا ہے وہیں امریکا اور جاپان سمیت دنیا بھر کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا، ویتنام، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، اٹلی، اسرائیل، اردن، بحرین، کویت، افغانستان اور ایران سمیت دنیا کے چالیس سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے لیکن چین کے بعد سب سے زیادہ مریض جنوبی کوریا اور ایران میں سامنے آئے ہیں۔ ایران کے تاریخی شہر قم میں کورونا وائرس کے باعث 50 افراد کی ہلاکت اور 250 افراد کو قرنطینہ میں رکھے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایران کی جانب سے کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد حکومت پاکستان نے فوری طور پر ایران سے ملحقہ تفتان سرحد پر تو اقدامات کر لیے، لیکن چین کے بعد ایران اور افغانستان میں سامنے آنے والے کیسز نے پاکستانی شہریوں میں خوف کی فضا قائم کر دی، کیونکہ ان تینوں ممالک کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحدیں ملتی ہیں اور ہزاروں افراد کی آمدروفت بھی ہوتی ہے۔

لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے 13 فروری سے لیکر 22 فروری تک سیکڑوں لوگ ایران سے پاکستان میں داخل ہو چکے ہوں گے، ان لوگوں سے کیسے رابطہ کیا جائے گا اور انھیں کس طرح چیک کیا جائے گا؟

کورونا وائرس کی اس  تصدیق نے پاکستان کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ دوسری طرف جس بات کا ڈر تھا، وہی ہوا۔ کورونا  نے پاکستان کی  سر زمین پر بالآخر دستک دے  دی اور کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آ گئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی دونوں کیسز کی تصدیق کی ہے

کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی میں سامنے آیا ہے، جبکہ دوسرے مریض کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ دونوں مریضوں کا اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے اور دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ معاون خصوصی کے مطابق پریشانی کی کوئی بات نہیں ، صورتحال قابو میں ہے۔

Corona-Article-Hira-Ahmad

دوسری جانب ترجمان محکمہ صحت سندھ نے تصدیق کی ہے کہ  کراچی کے متاثرہ مریض اور اس کے اہلخانہ کو مخصوص وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ کراچی کا کورونا سے متاثرہ نامی نوجوان چند روز قبل ہوائی جہاز کے ذریعے ایران سے کراچی پہنچا تھا۔

یہاں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ رواں ماہ میں ہی چین سے 22 سالہ پاکستانی طالبعلم عبداللہ کراچی واپس آیا تھا، جس کا ائیرپورٹ پر معائنہ نہیں کیا گیا، جس پر طالبعلم نے خود 17 فروری کو ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کا دورہ کیا اور بتایا کہ اس کا معائنہ نہیں کیا گیا اور اسے شک ہے کہ اسے کورونا وائرس ہے، جس پر اسے قرنطینہ میں رکھ کر اس کے ٹیسٹ کیے گئے اور نمونے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھی بھیجے گئے تاہم اس میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس ساری صورتحال نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ائیرپورٹ حکام کی جانب سے مسافروں کے معائنے کے دعوے کی قلعی کھول دی۔ ان کوتاہیوں کے سبب کہیں یہ وبا کی صورت اختیار کر کے پاکستان کے لیے چیلنج  نہ بن جائے، کیونکہ دیگر ممالک اس پر  دن رات ایک کر کے قابو پا لیں گے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اٹلی، ایران اور جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے تیزی سے سامنے آنے والے کیسز کے بعد اس کی روک تھام کی کوششیں کر رہی ہیں۔ لیکن پاکستان ترقی پذیر ملک ہے، یہاں کی آبادی بھی بہت زیادہ ہے اور صحت کی سہولیات بھی کم ہیں۔ اگر یہ وائرس یہاں پھیل گیا تو بہت تباہ کاریاں ہوںگی۔ اس لیے احتیاط بہتر ہے۔۔۔ کیونکہ ماضی میں ڈینگی  بخار اور اس جیسی دیگر مہلک وائرس کی مثالیں  موجود ہیں۔۔

 کورونا وائرس ہے کیا؟

دسمبر2019 کو چین کے صوبے ہوبئی کے مرکزی شہر ووہان میں ایک اسرار بیماری پھیلی جسے دنیا نے کورونا وائرس کا نام دیا۔ عالمی ادارہ صحت نے اس موذی مرض کو کووڈ 19 کا نام دے دیا۔

یہ وبا ووہان میں تیزی سے پھیلنے لگی تو چینی حکام نے فوری طور پر اس بات کا ادراک کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر 1000 بستروں پر مشتمل اسپتال قائم کیا اور پورے صوبے میں قرنطینہ (طبی ایمرجنسی) نافذ کر دی تاکہ بیماری دیگر شہروں میں نہ پھیل سکے۔ چین اس بیماری کو تو کسی حد تک دوسرے شہروں تک پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن ووہان میں ہلاکتوں کا سلسلہ تادم تحریر تھم نہ سکا اور چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2600 سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد 77 ہزار سے بھی زائد ہے۔

یہ وائرس انسانی  سانس کے نظام پر  حملہ  آور ہو کر  ہلاکتوں کی وجہ بن رہا ہے۔ اس پر اسرار وبا کی وجوہات  معلوم  کرنے میں دنیا بھر کے ماہرین  تاکال ناکام ہیں، جس نے عالمی ادارہ صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں بیماری کی وجوہات جاننے کے لیے چین میں موجود ہیں جب کہ دو ادویات کی آزمائشی جانچ بھی شروع کر دی گئی ہے، جن کے نتائج سامنے آنے میں ابھی تین ہفتے درکار ہیں ۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز اب چین سے باہر زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیدروس ایڈہانوم نے جنیوا میں سفارتکاروں کو بتایا کہ ‘گزشتہ روز وائرس کے جتنے نئے کیسز چین کے باہر رپورٹ ہوئے  ان کی تعداد پہلی بار چین سے زیادہ ہے۔

کورونا وائرس بھی دیگر وباؤں کی طرح جانوروں اور پرندوں سے منتقل ہوا۔۔ اس کا جینومک سائز قریب 26 سے 32 کلو بیسس ہے، جو ایک آر این اے وائرس کے لئے سب سے بڑا ہے۔  سب سے پہلے جن افراد کو ہسپتال لایا گیا  ان  کا تعلق مقامی مچھلی مارکیٹ سے تھا، جہاں  مرغیاں، سانپ، چمگادڑ، لومڑیاں، چوہے بلیوں اور دیگر قسم کے رینگنے والے جانور دستیاب تھے۔ جنیاتی تجزیے کے مطابق اس وائرس کی افزائش چمگادڑوں میں ہوئی، جبکہ بعض  کی رائے ہے کہ یہ وائرس سانپ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ تاہم ماہرین نے یہ امکان رد کر  دیا کیونکہ چین میں سانپ، حشرات اور چمگادڑوں کے سوپ اور کھانے کا عام رواج ہے۔۔۔

ابتدائی طور پر یہ وائرس 1960 میں دریافت ہوا۔ یہ قسم 2003 میں 37 ممالک تک پھیلی۔ ’سارس کورونا‘ نامی اس وباء نے 8000 لوگوں کو متاثر کیا، جبکہ 775 لوگ جان کی بازی ہار گئے۔

ستمبر 2012 میں مشرق وسطی میں ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے۔ دسمبر 2019میں ’نوول کورونا وائرس‘ کا پتا چائنہ کے شہر ووہان میں بے جا نمونیا کے پھیلنے سے لگا، جس کا نام ’ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن‘نے ’ہیومن کورونا وائرس نووال 2019‘رکھا، جو اس وائرس کی بالکل نئی قسم ہے۔  اس وباء کا نام کورونا اس کی مائیکروسکوپی شکل کو دیکھ کر رکھا گیا، جو شاہی تاج سے مماثلت رکھتی ہے۔ لاطینی زبان میں تاج کو ’کورونا‘ کہتے ہیں۔ تاوقت nCoV2019 کی کوئی اینٹی وائرل دوا یا ویکسین سامنے نہیں آئی۔ اس وباء کی نصف درجن سے زائد  اقسام اب  تک دریافت  ہو چکی ہیں، جبکہ سات کے قریب اقسام جانداروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو انسانوں میں سانس کے وبائی مرض کا سبب بنتا ہے۔

ا ب تک کی تشخص کے مطابق یہ وبا سانس کے ذریعے پھیلی۔ اس مرض میں مبتلا افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑنا ہے اور کھانسی کے ذریعے یہ پھیپڑوں میں سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ اس سے کھانسی، نزلہ و زکام، بخار اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Corona-Article-China

صورتحال یہ ہے کہ جو  افراد اس مرض کا علاج کر  رہے تھے  وہ خود اس کا شکار ہو گئے ہیں۔ بد قسمتی سے اب تک اس انفیکشن کا کوئی علاج نہیں۔ کیونکہ اس وائرس کی مکمل معلومات ابھی تحقیقی   مراحل میں ہیں اور جبکہ وائرس تاحال بے قابو ہے، اگرچہ امریکہ   سمیت آسٹریلیا اور تھائی لینڈ کے کچھ ماہرین نے کورونا وائرس شکن جرثومے یا ویکسین دریافت کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن  WHOنے اس دعوے کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جرثومہ فروری کے وسط تک اپنے طبعی جوبن پر پہنچے گا جس کے بعد ہی کسی مؤثر ویکسین کی تیاری ممکن ہوگی۔ لیکن ماہرین پریشان ہیں کہ یہ وائرس اب تک ظاہر ہونے والی علامات سے کہیں زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔

پاکستان، جہاں کتوں کے کاٹے کی  ویکسن ملنا تک ممکن نہیں، وہاں  کسی بھی وبا پر قابو  پانا کیسے ممکن ہو گا؟ اسی لیے حکومت کو  اس خطرے کو  دیکھتے ہوئے  ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے  چاہیے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں

کورونا وائرس کی علامات

  • کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کو سب سے پہلے بخار ہوتا ہے۔

  • اس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔

  • پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

  • ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

  • کچھ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے نوبت آ جاتی ہے۔

  • اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔

کورونا وائرس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اپنے ہاتھ ایسے صابن سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔

  • کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ٹشو سے ڈھانپیں۔

  • اس کے فوری بعد ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔

  • کسی چیز کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو نہ چھوئیں۔

  • ایسے لوگوں کے قریب نہ جائیں جو کھانس رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔

  • ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔

  • طبیعت خراب ہو تو گھر میں رہیں۔ لوگوں سے میل جول نہ کریں، اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ لیں

  • بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

  • طبی حکام کی ہدایت پر مکمل عمل کریںسب لوگ اپنے ہاتھ بار بار دھویں، منہ دھوئیں، چھینکتے وقت منہ پر ہاتھ رکھیں، رومال یا ٹشو استعمال کریں۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو کہنی کی طرف چھینک دیں ہاتھ نہ استعمال کریں۔

  • گوشت، انڈے پکا کر کھائیں کچا گوشت نہ کھائیں۔ جنگلی جانوروں سے دور رہیں

کورونا وائرس ہو یا ڈینگی، کوئی بھی وبائی مرض احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے۔ ہم احتیاط سے کئی امراض سے نجات پا سکتے ہیں۔ یہ معاشرے کی ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مرض کی علامات ظاہر ہونے تک 14 دن لگ سکتے ہیں۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کا عرصہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔

اگر اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ کو ئی شخص کورونا وائرس سے متاثر ہے، تو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والے 44 ہزار مریضوں کے ڈیٹا کے جائزہ کے بعد عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 81 فیصد افراد میں اس کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوئیں، 14 فیصد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ پانچ فیصد لوگ شدید بیمار ہوئے۔ اس بیماری سے مرنے والوں کی شرح صرف ایک سے دو فیصد رہی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی تک اس مرض کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم مرض کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے۔ امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمائی جا سکے گی۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلا۔ امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے گی۔

پاکستان کے بعض طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت پاکستان میں موجود ہی نہیں، نمونے ہانگ کانگ بھیجے جائیں گے۔ جب کہ پمز کے ترجمان کے مطابق اس کے ٹیسٹ کی سہولت پاکستان میں موجود ہے۔ ملتان کے نشتر ہسپتال میں اس وقت ایک چینی باشندہ فلو، کھانسی اور بخار کے باعث داخل ہے۔ اس وقت دُنیا بھر میں متعدد کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں

پاکستان چونکہ چین کا ہمسایہ ملک ہے، سی پیک کے بہت سے ترقیاتی مقامات پر چینی باشندے موجود ہیں۔ اسی طرح کاروبار کی غرض سے بہت سے پاکستانی چائنہ کا سفر کرتے ہیں۔ قریب پانچ سو پاکستانی طلباء چائنہ کے شہر ووہان ہی میں مقیم ہیں۔

علاوہ ازیں…. کورونا وائرس سے نہ صرف چین کی دیو ہیکل معیشت  لڑکھڑا گئی ہے، بلکہ  اس نے عالمی  معاشی  ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور  اور اگر جلد اس وائرس پر قابو نہ پایا  گیا تو یہ چین سمیت دیگر ممالک کی معاشی ساکھ کو  متاثر کر دے گا، جن کی   نوے فیصد معاشی سرگرمیوں کا انحصار چین کے ساتھ تجارت پر   ہے۔ اس میں پاکستان ہر لحاظ سے سرفہرست ہے، جس کا مجموعی تجارت کا حجم 15 ارب ڈالر ہے، جس کے  پاکستان کی معیشت پر اس کے اثرات اور بھی منفی پڑیں گے، جو ایک نہایت تشویشناک بات ہے۔ مزید یہ کہ، سی پیک کو بھی شدید دھچکا پہنچنے کا امکان ہے۔

خبرنامے اور اس کی ٹیم کا کالم نگار کے خیالات، تجزیات اور سفارشات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آئی ڈی: 2020/02/28/5798

اپنا تبصرہ بھیجیں