گِدھوں کا معاشرہ۔۔!!


کہنے والے کہتے ہیں کہ ظلم کی رسی دراز ہوتی ہے، اور اسے تب تک دراز کیا جاتا ہے جب تک ظلم حقوق العباد کو قطع نہ کرنا شروع کر دے۔ لیکن اصول قدرت یہ ہے کہ جب اس دراز رسی کو کھینچا جاتا ہے تو آسمان پر پہنچا تکبر دھڑام سے زمین کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے، کیونکہ فرمانِ الہی مطلق ہے کہ ’ان بطش ربک لشدید‘۔ سو تکبر کے زیور کی بجائے، انسان کو نگاہ زمین پر رکھنی چاہیے۔

انسان کو سبق حاصل کرنا ہو تو ایک لمحہ ہی کافی ہے، دل مگر بغاوت پر اتر آئے تو ساری عمر بھی ناکافی ہے۔ ہم کیا کریں کہ ہمارا معاشرہ ہی گِدھوں کا معاشرہ ہے۔ ہم مردے کے جسم سے اس کا سڑا ہوا بدبودار گوشت نوچ نوچ کر کھانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور ایسے عادی کہ اب حلال ہماری زبانوں کو جچتا ہی نہیں۔ کافروں کو کیا کہیں، کہ وہ تو کافر ٹھہرے، ہاں ’امت مسلمہ‘ اور بالخصوص اپنے معاشرے کو دیکھیں تو آنکھیں پھوڑنے کو جی چاہتا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ جیتے جاگتے، سانس لیتے انسان کا معاشرہ ہے۔ مجھے تو یہاں ہر شخص ایک ’زومبی‘ نظر آتا ہے جو دوسرے کےخون کا پیاسا ہو کر اسے چیر پھاڑ کر کھانے کو تیار بیٹھا ہے۔

کہا گیا کہ سبق لینا ہو تو ایک لمحہ کافی ہے تو ذکر کرتے ہیں علی بنات کا۔ ارب پتی، پرتعیش زندگی گزارنے کا عادی، دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں، گھڑیاں، بریسلٹس، لمیٹڈ ایڈیشن جوتے اور ڈیزائنز کپڑے پہننے کا عادی، لاابالی سا نوجوان۔ علی کو ایک جھٹکا نہ لگتا تو شاید علی بھی اپنی پرتعیش زندگی گزار کر اس دنیا سے گزر جاتا اور اسے کوئی یاد نہ رکھتا۔ مگر وہ انسان ہی کیا جو ٹھوکر کھائے اور سنبھل نہ جائے، یا پھر جو ایک لمحے میں حق کو پہچان نہ لے۔

Ali Banat

2015 میں علی بنات کو معلوم ہوا کہ اسے کینسر کے موذی مرض نے آخری سٹیج پر آن گھیرا ہے۔ ارب پتی علی کے پاس ان گنت اشیائے تعیش کو استعمال کرنے کے لیے صرف سات ماہ بچے۔ علی کو آخری موقع پر شاید حق کی روشنی نظر نہ آتی تو وہ بھی دل ہار کر دنیا جی بھر کر جی لیتا۔ لیکن اس نے ایسے وقت میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے اس کی زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ علی نے کینسر زدہ زندگی کے آخری ایام غربت ، افلاس اور بیماری کا شکار افریقی خطے کے لیے وقف کر دئیے۔ اس مقصد کے لیے ایک خیراتی ادارے ’مسلمز ارآونڈ دی ورلڈ‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ علی نے اپنی تمام تر جمع پونچی، بشمول مہنگی فیراری کار، بریسلٹس ، کپڑے اور جوتے بیچے یا خیرات کر دئیے۔ علی بنات کے اندر چھپے ’انسان‘ کو دنیا نے اس وقت پہچانا جب نومبر 2015 میں اس نے ایک ویڈیو بنائی جس کا ٹائٹل تھا’Gifted with Cancer‘۔ اس ویڈیو نے لوگوں کو رُلا اور ہلا کر رکھ دیا اور زندگی کی کھوکھلی حقیقت سب کے سامنے عیاں کر دی۔ یہ ویڈیو اس بےکس و بے بس انسان کی اس پوری پرتعیش زندگی کا نچوڑ ہے، جس کے پاس جینے کے لیے صرف سات ماہ بچے تھے۔ قصہ مختصر سات ماہ زندگی کی مہلت پانے والے علی بنات نے غریبوں کی مدد اور ان کی فلاح و بہبود سے دو سال کی زندگی پائی۔ اصول قدرت ہے جو آیا اسے لوٹنا ہے، سو ’کل نفس ذائقہ الموت‘ کا پیالہ پی کر علی مئی 2018 میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ علی نے اپنے گزر جانے سے پہلے ایک اور ویڈیو ریکارڈ کروائی، ’Ali Banat Final Message‘۔ یہ ویڈیو دیکھ لیں، یقین کریں، اس کے بعد آپ ساری زندگی اللہ کا شکر ادا کرتے گزاریں گے، اور توفیق ہوئی تو کبھی حرام کی طرف نہیں جائیں گے۔ علی چلا گیا مگر سینکڑوں لوگوں کی دعائیں آج بھی اس کے ساتھ ہیں۔

اب لوٹتے ہیں ہم اپنے گِدھوں کے معاشرے کی طرف۔ گِدھیں تو شاید مردہ کے جسم پر کچھ گوشت چھوڑ دیں مگر ہم تو ہڈیاں بھی نچوڑ کھانے کے عادی ہیں۔ ہمیں اللہ کا خوف اس وقت نہیں آتا جب ہم گرمی کی لہر آنے پر سامانِ آخرت یعنی کفن بھی بلیک میں مہنگے کر کے بیچتے ہیں اور لوگوں کی محرومیاں کیش کرتے ہیں۔ ’کافروں‘ کو کیا کہیں کہ کافر تو رمضان المبارک میں مسلمانوں کے استعمال کی چیزیں 50 فیصد سے بھی زیادہ سستی کر کے بیچتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے مسلمان اپنا ’جائز‘ منافع کھرا کرنے کے چکروں میں چیزیں  200 فیصد مہنگی کر دیتے ہیں۔ ہم نے تو چینی اور آٹے جیسی بنیادی ضروریات پر بھی لوگوں کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ افسوس ہوتا ہے اس معاشرے کا ایک جزو ہونے پر جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے اسپتالوں کو فراہم کی گئی ڈینگی کی سینکڑوں خصوصی کٹس واپس طلب کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ وہ تو غائب ہو چکی ہیں۔  

pakistan-heat-wave

اب جب مصائب کم نہ ہوئے، کہ پاکستان میں کورونا آنے کی اطلاعات آ گئیں، ابھی صرف اطلاع ہی آئی تھی کہ کسی نے حفاظتی ماسکس کو سلیمانی ٹوپی پہنا دی کہ وہ مارکیٹ سے ہی غائب ہو گئے۔ اب معلوم نہیں کہ وہ ہماری نظروں سے غائب ہیں یا اصلاً غائب ہیں۔ 200 روپے میں بکنے والا ماسک کا ڈبہ 1000 روپے میں بھی نہیں مل رہا۔ کیا قوم ہیں ہم۔۔! سبزی والا میڈیکل سٹور پر ماسک مہنگے ملنے پر لال پیلا ہو رہا ہے تو وہی میڈیکل سٹور والا سبزی والے کی دوکان پر ٹماٹر مہنگے بکنے پر لڑنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ نقلی دوائیں بیچنے ولا کیمسٹ شاید کل نقلی دوائی سے مرنے والے  اپنے کسی پیارے کو رو رہا ہو۔ سوچیے گا!

کہا جاتا ہے کہ خدارا لوگوں کی مجبوری، ان کی محرومی پر پیسے بنانا، منافع کمانا بند کر دیں۔ کچھ وقت کے لیے ہی صحیح منافع خوری چھوڑ دیں، علی بنات بنیں اور جہاں منافع چھوڑنا افضل ہو وہاں مجبور، بے کس، نادار اور مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کریں۔ ہم میں سے کاروبار کرنے والے ہر شخص کو علی بنات کی ’Gifted with cancer‘ ضرور دیکھنی چاہیے۔ شاید اللہ کسی کے دل میں نیکی کی ایک لہر پیدا کر دے۔

خود احتسابی تو بہرحال ایک نظریہ ہی ہے لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچا ضرور جائے کہ ہم کس راستے پر چل رہے ہیں اور اپنے لیے کسی آخرت تیار کر رہے ہیں۔ جواب ملے تو اچھا، نہ ملے تو سوچا جائے کہ کہیں ہم بھی گِدھوں کے اس معاشرے میں ایک گِدھ تو نہیں بن چکے؟

 

آئی ڈی: 2020/02/28/5812

Leave A Reply

Your email address will not be published.