پیٹرولیم لیوی 105 فیصد تک بڑھادی گئی؛ حکومت ایک ماہ میں 10 ارب روپے کمائے گی

Petrol-Prices-Reduction

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت عوام کی جیبوں سے اضافی دس ارب روپے نکلوائے گی۔ تیل کی قیمتوں میں کمی پر اوگرا اور وزارت خزانہ آمنے سامنے آ گئیں۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں تیل کی قیمتوں میں بھی متوقع کمی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، بلکہ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 4.80 کھرب کے ریونیو شارٹ فال کے پیش نظر متعدد پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی 106 فیصد تک بڑھا دی تاکہ 30 جون تک 40 ارب روپے کا اضافی ریونیو اکٹھا کیا جاسکے۔

دستاویزات کے مطابق وزارت خزانہ نے مارچ کے مہینے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر پیٹرولیم لیوی کو مارچ کے لیے 7.30 روپے سے 25.50 روپے فی لیٹر تک بڑھا دیا جو فروری کے مہینے میں 18 روپے فی لیٹر تھی۔ اس فیصلے سے تقریباً 4 ارب 60 کروڑ روپے کا اضافی ریونیو اکٹھا کیا جا سکے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایچ ایس ڈی کی سابق ڈپو قیمت میں 12 روپے 4 پیسے (9.5 فیصد) فی لیٹر کمی کی تجویز دی لیکن وزارت خزانہ نے وزیر اعظم کو اس کی قیمت میں صرف 5 روپے (3.9 فیصد تک) کمی کرنے پر راضی کر لیا۔

اسی طرح، حکومت نے پیٹرول پر عائد ٹیکس کی شرح 4.75 روپے سے بڑھا کر 19.75 روپے (32 فیصد اضافہ) کر دیا۔ ساتھ ہی پیٹرول پر عائد اضافی ٹیکس سے ایک ماہ میں تقریبا 3.60 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہاں یہ مدنظر رہے کہ اوگرا نے فی لیٹر 9.76 روپے (8.4 فیصد کمی) کمی کا حساب لگایا تھا لیکن وزارت خزانہ نے صارفین کے لیے صرف 5 روپے (4.29 فیصد) کی کمی منظور کی۔ اسی طرح مٹی کے تیل پر عائد ٹیکس 6 روپے سے بڑھا کر 12.33 روپے فی لیٹر (105 فیصد  اضافہ) کردیا گیا۔ اس اضافے سے تقریبا 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق پیٹرول پر اب کُل ٹیکس 39 روپے فی لیٹر ہے۔

دبئی خام تیل کی شرح 31 جنوری کو 62 ڈالر فی بیرل سے 28 فروری کو 19.35 فیصد کم ہوکر 50 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی۔ ادھر بینچ مارک برینٹ 60 ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 51 ڈالر فی بیرل ہوگیا جو 18.33 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری مقامی مارکیٹ میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کی کمی کی گئی۔ حکومت نے پہلے ہی تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کو اضافی ریونیو پیدا کرنے کے لیے 17 فیصد کی معیاری شرح تک بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ سال جنوری تک حکومت ایل ڈی او پر 0.5 فیصد، مٹی کے تیل پر 2 فیصد، پیٹرول پر 8 فیصد اور ایچ ایس ڈی پر 13 فیصد جی ایس ٹی وصول کررہی تھی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/01/5881

متعلقہ خبریں

Leave a Comment