عورت مارچ کے خلاف کون ؟ اور کیوں ؟

پاکستان میں عورت کے حقوق اور عورت کی آزادی کا تصور تقریبا نیا Phenomenon ہے ۔ پچھلے چند سال میں چند خواتین عورت کے حقوق کے نام پر ملک کے بڑے شہروں میں اکٹھی ہوتی ہیں اور ایک مارچ کی شکل میں اپنے حقوق کی خاطر شہر کے نمایاں مقامات پر نعرے لگاتی ہیں ۔
مشہور ترین نعرہ : میرا جسم میری مرضی
خیر یہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں اب آتے ہیں اصل مدعہ پر۔ پاکستان میں عورت مارچ ،مرد مارچ، آزادی مارچ یا پھر مارچ کا ماہ ہو اس سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ ہے تو اس آزادی کے نعرے کے پیچھے کار فرما چند عوامل و عناصر کا جو پاکستان کے کلچرل کے خلاف کارروائی میں ملوث ہیں۔
شاید آپکو یہ بات اچھی نہ لگے لیکن ، ہر ملک میں ایک طاقت ور طبقہ ہوتا ہے جو اپنے مفادات کی محافظت تو کرتا ہی ہے ساتھ ہی یہ بھی نظر رکھتا ہے کہ آج اٹھنے والے چند نعرے اگلے 10 سے 30 سال کے دوران عوام کی فکر کو کہاں لے جائیں گے ۔ دراصل اس عرصے کے دوران ایک نئی نسل معاشرہ کا فیس بنتی ہے اور یہ طاقت ور لوگ نہیں چاہتے کہ انکی آئندہ نسل کسی غیر فطری یا غیر مردی معاشرہ کے سپورٹر بنیں۔
سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ تک خواتین کو ڈرائیونگ تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی باقی باتیں تو چھوڑ ہی دیتے ہیں وجہ یہی تھی کہ وہ اپنی خواتین سے آگاہ تھے اور نہیں چاہتے کہ انکی خواتین انکے خلاف برسرپیکار ہوں
خیر عورت کی اس بڑھتی ہوئی مارچ کو دو طریقوں سے لیا گیا : چند روز پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں دو ڈرامہ نگاروں کے بیچ بحث ہوئی ، بحث ایک ڈرامہ کو لیکر کی گئی اور عورت کو بطور Subject رکھا گیا۔ معاشرے کو عورت کا دوسرا رخ دیکھایا گیا اور ذہن سازی کی بنیاد ایک ڈرامے سے رکھی گئی، گذشتہ روز ایک اور پروگرام میں عورت پر ہی بات کی گئی لیکن اس بار عورت تبدیل کی گئی اور عورت کو Subject کے بجائےObject کے طور پر لیا گیا
فرق یہ تھا کہ پچھلی بار خاتون کیساتھ مہذب انداز میں بات کی گئی اور صرف چند حوالوں سے عورت کے منفی پہلو اجاگر کیے گئے لیکن گذشتہ روز کے پروگرام میں عورت پر براہ راست جملہ بازی کی گئی ، میرا جسم میری مرضی کے نعرے کا جواب ۔۔ تمہارے جسم میں ہے کیا؟ اور گھٹیا عورت کہہ کر دیا گیا اور باقی احوال اور شٹ اپ کال تو چلتا ہی رہا۔
دونوں خواتین میں فرق تھا : ایک خاتون پاکستان میں ہی رہتی ہیں صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہیں اور تقریبا ڈرامہ لکھنا چھوڑ چکی ہیں لیکن خواتین کے حقوق کی بات پر وہ ضرور آواز بلند کرتی ہیں ، لیکن دوسری خاتون ملک سے باہر ہیں ، ملکی اداروں پر تنقید فرماتی ہیں اور عورت کے جسم اور اپنی مرضی کی بات علی اعلان کرتی ہیں
یہ دونوں باتیں کسی نہ کسی کو تو کھٹکتی ہیں ۔۔ معذرت صرف کسی کو نہیں پاکستانی عوام کو تنقید تو ویسے ہی پسند نہیں اور پھر عورت راج کا اعلان تو گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے
خیر یہاں عورت مارچ والی عورتیں بھی اتنی متحد ہیں اور اپنے کام میں اتنی مگن ہیں کہ عورتوں کی تمام تنظیموں کی چیئرمین ایک عورت نہیں بلکہ ایک خواجہ سراء ہے جس کو حال ہی میں ایک عالمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے
دراصل بھائی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خواجہ سراء اور عورت مارچ کا گٹھ جوڑ ملک کو Homosexuality کی طرف لیکر جا رہا ہے جو نہ تو معاشرہ کو پسند ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان اسکا متحمل ہو سکتا ہے ۔
طاقت ور لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو مارچ والی نہیں گھر چلانے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے والی عورتوں کی ضرورت ہے۔ خواجہ سراؤں کی نہیں بلکہ مردوں کی ضرورت ہے کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے اور جن خطرات کا سامنا ہے اس میں ان دونوں کی جگہ نہیں بنتی۔
لیکن سوشل میڈیا پر خلیل الرحمن کے رویے کو انتہائی تنقید کا سامنا ہے ، دوسری طرف عورت مارچ والی عورتوں کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جنسی زیادتی، چائلڈ میرج، صحت کی نا مناسب سہولیات ، انسانی اسمگلنگ ، عورتوں کی زبردستی،سیکڑوں کو وٹّہ سٹّہ، وَنِی، سَوارا کی بھینٹ چڑھانے کیخلاف ہے

متعلقہ خبریں

Leave a Comment