اب بھی نہ جاگے تو کب جاگیں گے؟


کبھی کبھی میں آنکھیں بند کر کے اندھیرے میں لیٹوں تو ایک تصور سے میرے جسم کا ایک ایک رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے۔ مجھے اس اندھیرے سے شدید گھبراہٹ ہونے لگتی ہے اور کچھ ہی دیر میں میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میں پورے زندہ وجود کے ساتھ ایک قبر میں موجود ہوں، جہاں ہر آہٹ، ہر ایک احساس میری جلد پر سے رینگ کر میرے پہلو میں اتر رہا ہے۔

یہ تصور کچھ اور نہیں بلکہ ایک واقعہ ہے جو کسی پر کسی جگہ گزرا۔ نہیں! بلکہ یہ ایک واقعہ نہیں تھا، ایک سانحہ تھا۔ یہ سانحہ کسی پر کیا گزرا کہ اس کی جان بھی چلی گئی۔ معلوم نہیں وہ ساعتیں، وہ وقت اس نے کیسے گزارا ہو گا، اس تصور سے ہی مجھے وحشت ہوتی ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں کہ کسی کی یادداشت سے ہی محو ہو جائے۔ بات بھلانے والی ہے بھی نہیں۔ تلخ یادیں بھلائے نہیں بھولتیں، بس زندگی میں ایک ایسا نہ بھرنے والا زخم لگا دیتی ہیں، کہ جس کی شدت وقت کے ساتھ ساتھ کم تو ہوتی ہے لیکن وہ مندمل نہیں ہوتا۔

زینب، سخاوت کرنے والی، ایک مبارک عورت کا اسم گرامی، اور ایک وہ زینب جو کسی درندہ صفت بھیڑئیے کے ہاتھوں میں کسمسائی ہو گی، مچلی ہو گی، اس نے اسے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے دئیے ہوں گے، لیکن یہ سب کچھ اس بھیڑئیے کے کانوں سے پانی کی مانند پھسل کر بہہ گیا ہو گیا۔ اس انسان کو اگر کچھ یاد رہا ہو گا تو اپنی ہوس پوری کرنے کی غلیظ خواہش۔۔ اللہ کسی پر وہ وقت نہ لائے کہ اسے یہ وقت دیکھنا پڑے۔۔ زینب کے والدین کو اس کی لاش اپنے ہاتھوں سے اٹھانی پڑی۔۔ انصار کی زینب اجڑ گئی!

Zainab Ansari-Kasur

معاشرہ اور معاشرے کو چلانے والے اس وقت خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ پھر اچانک ہی کسی کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ہمارے بچے، ہمارا مستقبل اپنوں ہی کے ہاتھوں کس قدر غیر محفوظ ہے۔ کوئی اپنے سگے رشتوں کے ہاتھوں پامال ہو رہا ہے، تو کسی کو قریبی رشتہ دار مالِ غنیم سمجھ کر لوٹ کھسوٹ رہے ہیں۔ کئی جگہ تو ایسا بھی ہوا کہ اپنوں نے اس لوٹ کھسوٹ پر اپنی آنکھیں بند رکھیں؛ عزت بھی تو اس مشرقی معاشرے کا ایک جزو ہے کہ لُٹانا آسان، کمانا بہت مشکل، سو لُٹ گئی تو واپس لانا گویا ناممکن۔

بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے ’ساحل‘ نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان میں ہر روز کم از کم دس بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان کی 2018 کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق مذکوہ سال بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے تین ہزار آٹھ سو بتیس کیس رپورٹ ہوئے۔  یہ بھی ایک انتہائی محتاط اندازہ ہے اور سراسر چَھپ جانے والی خبروں کی بنیاد پر مبنی ہے۔ اس فہرست کے بارے میں بھی سوچا جائے جہاں خاموشی، چپ، ’باہر و باہر‘ معاملات  طے کر لیے جاتے ہیں، اور بچوں کو ساری زندگی کے لیے ایک اذیت میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ’امرِ ممنوعہ‘ کی تو فہرست ویسے بھی طویل تر ہے، لیکن صرف اس بچے پر، جس کا استحصال کیا جائے، گزرنے والی قیامت کا اندازہ لگایا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے۔ ساری زندگی کے لیے ایک داغ، ایک کرب، ایک تکلیف اور خودی کے کچلے جانے کا احساس بھی کیا کسی کو جگانے کے لیے کافی نہیں؟ سوچا جائے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا مستقبل دے رہے ہیں؟ کیا ایسا مستقبل کہ جہاں ہر بچہ اپنوں کے ہی ہاتھوں محفوظ نہ ہو۔

ساحل جیسی تنظیمیں بھی نہ ہوں، تو اس پر بات کون کرے گا؟ ہمیں بہرحال ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

امریکہ بھی اپنے بچوں کے تحفظ میں بہت پیچھے تھا۔ لیکن پھر صرف تین واقعات نے امریکہ کی تاریخ تبدیل کر کے رکھ دی۔ ان واقعات کی تفصیلات بہت لمبی ہیں، سو صرف یہ ہی کہنا کافی ہو گا کہ ان تین واقعات کے بعد فی الوقت امریکہ میں بچوں کا استحصال کرنے والے جنسی درندوں کی باقاعدہ رجسٹریز بنائی گئی ہیں، جو وفاق اور ریاستوں کی سطح پر منظم کی جاتی ہیں۔ ان میں ان تمام جنسی درندوں کی تصاویر، نام، جرم کی تفصیلات، ان کے علاقے، ان کی شخصیات سے متعلق جزیات کی مکمل تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ ان رجسٹریز نے والدین کو اپنے اردگرد چھپے ان درندوں کو پہچاننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مگر سوچا جائے کہ اگر امریکہ بھی ان واقعات سے صَرفِ نظر کر کے گزر جاتا تو آج امریکہ کی تاریخ کیا ہوتی؟

اب ہمارے قانون سازوں کو بھی اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تو انہوں نے بھی 2018 میں گزر جانے والی زینب کے نام پر ایک ’زینب الرٹ بل‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس کر لیا۔ یہ بل ہماری قوم کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جانب ایک پہلا قدم ہے جو اس حوالے سے اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔ لیکن سوچا جائے کہ کیا ہمارے اندر بحیثیت قوم اس قانون کے اطلاق کی صلاحیت موجود ہے؟ کیا ہم اس معاملے کی نزاکت اور اہمیت کو اب بھی سمجھ سکے ہیں یا نہیں؟

National Assembly

بحث و ابحاث قانون سازی کا اہم جزو ہیں، اور اختلافِ رائے اس کا حسن۔ لیکن سوچا جائے کہ بچوں کے جنسی استحصال پر ہونے والی بحثوں میں ’ایسا نہیں، ویسا ہونا چاہیے‘ یا ’ویسا نہیں، ایسا ہونا چاہیے‘ جیسی باتیں افسوسناک ہیں۔ بچوں کے معاملے پر قومی اسمبلی، سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں میں جو لے دے ہوئی، وہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ بہرحال یہ معاملہ اب طے پا چکا ہے، جو ایک اچھی بات ہے۔

جہاں تک میرا خیال ہے کہ انسانی حقوق کی وزارت نے جو ’جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کی رجسٹری‘ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، اب اسے کسی کنارے لگا ہی دینا چاہیے۔ اپنے قول و فعل میں کسی تضاد کے بغیر ہمیں بھی اس معاملے پر یک جان ہو کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ اگر، خدانخواستہ، ایسا نہ ہو سکا تو قانون سازیاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، اور معاشرہ جیسے چل رہا ہے، ویسے ہی چلتا رہے گا۔ کسی روز ایسا ہی ایک اور واقعہ ہو جائے گا، اور  ہم نعرے لگا کر ایک بار پھر  ویسے ہی خاموشی کی چادر اوڑھ کر سو جائیں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/03/05/5973

Leave A Reply

Your email address will not be published.