سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم دے دیا


اسلام آباد: اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم دے دیا۔ مئیر اسلام آباد کو بے اختیار جبکہ بلدیاتی اختیارات منتقلی پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ملک بھر میں بلدیاتی اختیارات کا سنگین مسئلہ ہے۔آرٹیکل 140 اے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے اسلام آباد میں گندگی پر چیئرمین سی ڈی اے اور مئیر اسلام آباد کی سرزنش کی۔ انہوں نے ریمارکس دئیے آلودگی کے لحاظ سے اسلام آباد بدترین دارالحکومت ہے۔اس شہر کا کوئی معیار تو بنائیں۔ شہریوں کو سہولیات فراہم کریں۔لوگوں کے لیے بیٹھنے، چلنے اور تفریح کی جگہ ہونی چاہیے۔اسلام آباد کی اپنی فوڈ اتھارٹی بنائیں جو چیزوں کا جائزہ لے۔ایئرپورٹ سے ایوان صدر تک ہر جگہ قومی پرچم لگے ہونے چاہئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں۔ چیئرمین سے زیادہ کلرک طاقتور ہیں۔عدالت نے میئر اسلام آباد کی بھی سرزنش کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد والوں کو ٹرانسپورٹ کیوں نہیں دیتے؟ کچھ نہیں کرنا تو کم از کم رکشے ہی چلا دیں تاکہ خواتین محفوظ سفر کر سکیں۔میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز نے کہا ہمیں اختیارات دے دیں تین ماہ میں کام نہ کیا تو الٹا لٹکا دیجئے گا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا  کہ  آپ بہت بڑا چیلنج دے رہے۔ساڑھے تین سال آپکی پارٹی کی حکومت رہی، تب آپ نے کیا کر لیا۔

عدالت نے سی ڈی اے ملازمین کے تبادلوں سے متعلق نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کو دو ہفتے میں فیصلہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ  این آئی آر سی وفاقی ترقیاتی ادارے کے تمام مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں کرے۔عدالت نے بلدیاتی اختیارات کی منتقلی پر سیکرٹری داخلہ سے بھی جواب طلب کرلیا۔  علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا بھی حکم دے دیا۔پنجاب اور کے پی حکومتوں کو کرشنگ والی جگہ پر شجرکاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/05/5991

Leave A Reply

Your email address will not be published.