سب مرد کا احسان ہے

اسکی ماں کی شادی چھوٹی عمر میں ہی ہو گئی تھی۔ اور وہ شادی کے دو سال بعد پیدا ہوئی۔ پہلے اسکی ماں کو بچہ نہ ہونے کے طعنے ملتے تھے لیکن اسکی پیدائش کے بعد لڑکی پیدا ہونے پر طعنے ملنے لگے۔ تین سال بعد اسکی ماں کے ہاں دوسری بیٹی پیدا ہوئی۔ دادی نے تھوڑی باتیں اور سنائیں اور شاید اسکی خالہ نے ہی بولا کہ بس کر دیں، خود بھی عورت ہی ہیں اور تین عورتیں آپ بھی دنیا میں لا چکی ہیں، تو خاموش ہوئیں۔

خیر دو سال بعد بیٹا پیدا ہو اور تب جا کر تھوڑا بہت سکون آیا کہ جی وارث مل گیا باپ کو، اس باپ کو جو عموماً نشے میں رہتا تھا۔ اب اسکی ماں کو یہ کہا جاتا تھا کہ ایک اور بچہ کر لے، دو بیٹے ہو جائیں گے تو باپ کو سہارا اور بیٹے کو گھر میں دوست مل جائے گا۔ اسی چکر میں اسکی ماں نے دو اور بیٹیاں پیدا کر دیں۔ عجیب عورت تھی اسکی ماں کہ پریشر ہی ہینڈل نہ کر سکی۔

میاں شرابی تھا تو کیا ہوا مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔ شراب پی کر کرتا ہی کیا تھا بیچارہ، بس مارتا ہی تو تھا۔ اب انسان ہے اپنا غصہ کس پر نکالے۔ اپنی بیوی پر نہیں نکالے گا تو کیا سڑکوں پر تماشہ کرے؟ بھئی باہر اسکی کوئی عزت ہے، عزت دار آدمی  باہر جا کر تماشہ نہیں کرتا۔ اور ویسے بھی اسکی ماں سارا دن کرتی ہی کیا تھی؟ صرف گھر کا کام، جو کہ اسکی روز کی ڈیوٹی ہے۔ بچوں کا خیال رکھنا وہ بھی کوئی ایکسٹرا کام نہیں اور اگر میاں نہیں کماتا تو گھر کا خرچ کیسے دے؟ اب کپڑے سی لیتی ہے تو کون سا کس پر احسان کرتی ہے۔ دونوں مل کر ہی تو چلاتے ہیں گھر۔ مرد بچے بناتا ہے اس کے پیٹ میں، وہ انکو پیدا کر لیتی ہے۔ آخر کون سا ایسا انوکھا کام ہے جو عورت کرتی ہے؟

اب مرد نہ ہوتا تو ہم دیکھتے بچے کیسے پیدا کرسکتی تھی یہ۔ اب دو چار لگا دیتا ہے تو کون سی قیامت ہے جی؟ بتائیں ذرا ؟ اسی مرد کی وجہ سے ساری عمر کے بانجھ پن سے بچی ہے، وہ ورنہ طعنے ساری عمر ملتے اور مرد کی ماں تو دوسری لے ہی آتی، کیونکہ مرد کو وارث چاہیے ہوتا ہے۔ اوپر سے چار چار بیٹیاں بھی پیدا کر دیں تو اب اس عورت کو یہ سب تو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔

عورت کو سمجھ ہی نہیں آتی۔۔ کم عقل جو ہوتی ہے! گھر میں رکھنا چاہئے، ورنہ دیکھا نہیں بینر اٹھا کر باہر نکل آتیں ہیں، ’میرا جسم میری مرضی‘۔ کون ہو تم اپنی مرضی دیکھانے والی اپنے جسم پر؟ بازار کی عورتیں اپنے جسم اپنی مرضی سے چلاتی ہیں۔ تم بازار کی عورت تھوڑی نہ ہو۔

مجھے آج سمجھ آرہی ہے کہ ہمارے ملک میں لڑکیوں کو کم کیوں پڑھایا جاتا ہے۔ بھئی ہاتھ سے جو نکل جاتی ہیں۔ اسکو دنیا کی سمجھ جو آنے لگتی ہے۔ ان کا بالکل یہ کام نہیں کہ دنیا کو سمجھیں۔ انکو اللہ نے اس لئے تھوڑی پیدا کیا ہے؟ عورتوں کو صرف مرد کی تفریح کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تم اپنے وجود کو اپنے مرضی سے نہیں چلا سکتی جسم تو دور کی بات ہے!

 

خبرنامے اور اس کی ٹیم کا کالم نگار کی آرا، تجاویز یا تجزیات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

آئی ڈی:2020/03/05/5959

متعلقہ خبریں

Leave a Comment