بیٹیاں مت مارو!

آج بھی کہیں اللہ کی رحمت کے کسی کے گھر آنے کی خبر سنائی دے تو مجھے شرم سے جھکے سر اور  غم سے نڈھال سیاہ چہرے نظر آتے ہیں۔


جب بھی میں ایسا خبریں سنتا ہوں، بے اختیار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ کسی ترقی ہے جس نے ہماری سوچ کو بجائے آگے بڑھنے کے  1500 سال قبل کی قبل از اسلام جہالت میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں سر شرم سے نہ جھکے تو اور کیا ہو؟

ایک وہ واقعہ تھا جس نے محسن انسانیت ﷺ کو بھی آبدیدہ کر دیا۔ ایک شخص حاضر خدمت ہوتا ہے اور اپنے ایک ایسے گناہ کو بیان کرتا ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں جس پر فخر کیا جاتا۔ ایک گناہ، جو ایک ننھی جان کے دنیا میں آنے سے بدو اعراب کے چہروں کو شدت غم سے سیاہ کرتا اور دوسرا جو فخر سمجھا جاتا۔ بیٹی کی پیدائش کی خبر ملتی تو چہرہ سیاہ ہو جاتا کہ مشرکین کے ہاں بیٹی کی پیدائش گویا موت کا پروانہ تھا۔ اس پر کمائے جانے والے گناہ پر تو قرآن بھی خاموش نہ رہا۔ سورۃ النحل میں کہا گیا،  ‘‘اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی ( کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے۔ اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔’’

میں کیا کروں،  میرا دھیان بے اختیار اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کی طرف مڑ جاتا ہے۔ پس آج بھی کہیں اللہ کی رحمت کے کسی کے گھر آنے کی خبر سنائی دے تو مجھے شرم سے جھکے سر اور  غم سے نڈھال سیاہ چہرے نظر آتے ہیں۔ اسلام آ گیا پر ہم مسلمان نہ ہو سکے، واضح ہونے والی چیز کو واضح کر دیا گیا، مگر ہمیں سمجھنا تھا  نہ سمجھے، افسوس!

Baby-Girl

بیٹی کا پیدا ہونا ایسا ہی گناہ ہے تو معاشرے میں پہلی تربیت گاہ یعنی ماں کی گود کہاں سے آئے گی، بھائیوں کو لاڈ پیار  اور محبت دینے والی بہن کا تذکرہ کون کرے گا اور شوہر کی عزت کی نگہبان بیوی کو کہاں ڈھونڈا جائے گا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ گجرات میں لوگوں کے مستقبل کو سنوارنے والی، ایک معلمہ کو صرف اس جرم میں ابدی نیند سُلا دیا گیا کہ اس کے بطن سے اوپر نیچے تین بیٹیاں ہی کیوں پیدا ہوئیں؟ پھر ابدی نیند بھی محض ایسی نہیں کہ یکبارگی ہو، بلکہ چھریاں مار مارکر، گولیوں سے چھلنی کر کے، جیسے کوئی ازلی دشمنی کا بدلہ لیا جا رہا ہو،  اگلے جہان جانے کا سامان کیا گیا۔ ایک عورت قتل ہوئی، ایک قصہ تمام ہوا، تین بیٹیوں سے پوری زندگی کے لیے ماں کا پیار چھین لیا گیا، ان کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے ایک کانٹا چبھو کر چھوڑ دیا گیا کہ یہ ہیں وہ تمغے کہ جن کی پاداش میں ان کی ماں ان سے چھین لی گئی۔ آسمان ٹوٹا نہ کوئی قہر برسا۔ ایک زندگی تھی، سو ختم ہو گئی، جو اختیار نہ رکھتا تھا اس نے ایک گناہ کما لیا ، المختصر!  عورت ہی تو غیرت میں قتل ہوتی ہے، عورت ہی تو ہمارے گناہ کا ازالہ ہے، سو مرد کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے، مرد کے گناہ کا بوجھ اٹھانے کو عورت جو موجود ہے، مرد سر اٹھا کر جیے، گناہ کر کے بھی سرفراز رہے لیکن عورت کو اس قدر دبا دیا جائے کہ وہ اللہ کی جانب سے دئیے گئے تحفہ زندگی کو بھی عذاب سمجھنے لگے۔

Woman-Pakistan

ہمارے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسی ایسی رسومات ہیں کہ مشرکین عرب بھی شاید ان پر شرما جائیں۔ وٹہ سٹا ہو، ونی ہو، کاروکاری ہو، سیاہ کاری ہو یا سومرہ ، قربانی کے لیے عورت ہی تو ہے، اب چاہے وہ ساٹھ سال کی ہو یا سات سال کی۔

ہمیں خود کو ایک با شعور، ذی عقل قوم کہلانا چھوڑ دینا چاہیے۔ یوم آخرت برحق، سو آ کر رہے گا۔ بس یہ سوچا جائے کہ اس دن ہم ان مشرکین مکہ کے ساتھ تو کھڑے نہیں ہوں گے کہ جن کی دفنائی گئی بیٹی اس دن اٹھائی جائے گی اور اس سے سوال کیا جائے گا کہ، ‘‘تجھے کس گناہ میں قتل کیا گیا’’۔ بس یہ سوچ لیں، اس دن ہمارے پاس اللہ کو دینے کے لیے کیا جواب ہو گا؟

 

آئی ڈی: 2020/03/06/6033

Leave A Reply

Your email address will not be published.