امریکہ افغان طالبان امن معاہدے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

Afghanistan Taliban-US-Peace Accord

افغان طالبان اور امریکہ میں امن معاہدہ گزشتہ مہینے کے آخر میں ہو چکا ہے، جس میں غیر ملکی افواج چودہ ماہ میں افغانستان سے نکل جائیں گی، اور  رواں مہینے میں افغانستان میں انٹرا افغان مذاکرات شروع ہو جانے کی توقع ہے۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے فوراً بعد افغان صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ 5000 طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کر رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد طالبان نے افغان فورسز کے خلاف عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف بہت بڑی تعداد میں عسکریت پسند گروپ برسرپیکار ہیں۔ ان میں طالبان، داعش اور القاعدہ وغیرہ شامل ہیں ۔امارات اسلامیہ یعنی طالبان افغانستان کا سب سے بڑا اور مضبوط عسکری گروپ ہے۔ مضبوط اور ایک بڑی عسکری طاقت ہونے کی وجہ سے امریکہ نے امن مذاکرات بھی طالبان ہی سے کیے ہیں۔ طالبان نے امریکہ کو یہ باور کروایا ہے کہ افغان سرزمین امریکہ کے خلاف کوئی بھی شدت پسند گروہ استعمال نہیں کرے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ طالبان نے داعش اور القاعدہ کو بھی امن معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان اور امریکہ کے امن معاہدے کے بعد بھارت پریشانی کا شکار ہے، کیونکہ افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد  افغانستان میں جاری بھارتی سرگرمیاں رک جائیں گی۔ امن معاہدے کے بعد بھارت کو افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بھی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ طالبان ہیں۔ طالبان کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ پاکستان دوست سوچ رکھنے والے ہیں، اور افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اور افغان حکومت سے تعلقات طالبان کو قبول نہیں ہیں۔

بھارت کے موجودہ افغان حکومت کے ساتھ بہت گہرے تعلقات ہیں۔ لیکن دوسری طرف افغان حکومت کا ملک میں انتظامی کنٹرول جزوی ہے۔ طالبان اب بھی ملک کے ستر فیصد علاقے پر حکومت کر رہے ہیں اور غیر ملکی فوج کے جانے کے بعد حالات مزید تبدیل ہونے کے امکانات ہیں۔آنے والے دنوں میں دہلی کا کابل میں کردار ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یاد رہے بھارت اب تک افغانستان میں تین ملین ڈالر مختلف پراجیکٹس پر لگا چکا ہے۔

Salma-Dam-India-Afghanistan-Herat
بھارت افغانستان کے ہرات میں ’سلمی ڈیم‘ بھی بنا چکا ہے۔

پاکستان بارہا اس بات کو دہرا چکا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے مطابق کابل میں بھارتی سفارت خانہ بلوچستان میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہے اور  شدت پسندوں کی مالی معاونت کرتا ہے، جس پر کئی بار افغان حکومت سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

دسمبر 2018 میں  قندھار میں بلوچستان لبریشن آرمی کا شدت پسند اسلم بلوچ اپنے چار ساتھیوں سمیت ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اسلم بلوچ پاکستان میں چائنیز کونصلیٹ پر حملے میں ملوث تھا۔ اس بات کے قوی شواہد ہیں کہ اسلم بلوچ بھارت سے عسکری تربیت لے چکا تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے بعد افغانستان فرار ہو جاتا تھا۔

ماضی میں طالبان اور بھارت کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ 24 دسمبر 1999 کو کھٹمنڈو سے اڑنے والا انڈین ائیر لائن کا 814 نمبر طیارہ حرکت المجاہدین کے جنگجوؤں نے ہائی جیک کر لیا تھا، جس کو بعد میں قندھار میں اتارا گیا تھا۔ قندھار میں اس وقت طالبان کی حکومت تھی۔ طیارہ اغوا کرنے والوں نے اپنے ساتھی مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جو اس وقت بھارت کی قید میں تھے۔ 2008  دسمبر کے مہینے میں کابل میں موجود بھارتی سفارتخانے پر حملے میں ایک بھارتی سفارت کار سمیت 58 افراد ہلاک اور 114 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

امن معاہدے سے لگائی جانے والی توقعات فی الحال بہت اونچی ہیں لیکن یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ طالبان اور بھارت کے درمیان تعلقات کیسے ہوں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/03/06/6008

متعلقہ خبریں

Leave a Comment