شفا انٹرنیشنل کے فلاحی کلینک میں مریضوں سے بھاری بھرکم فیس وصول کرنے کا انکشاف

Shifa-International-Hospital

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے وسط میں واقع بین الاقوامی معیار کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے فلاحی پراجیکٹ کے تحت چلنے والے کلینک میں مستحق مریضوں سے بھاری بھرکم فیس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ابتدا میں اپنے ڈونیشنز کے صحیح استعمال کے بعد اب فلاحی کلینک میں مریضوں  سے بھاری بھرکم فیسوں کی وصولی  کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں مریض روزانہ کی بنیاد پر فلاحی کی مختلف او پی ڈیز  میں علاج کے لیے آتے ہیں، لیکن کچھ عرصے سے ان کو مفت علاج کی سہولیات نہ ملنے کی شکایات عام ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مریضوں کی مالی حیثیت کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے مقرر کردہ افراد مریضوں سے ان کی  مالی حیثیت  بارے پوچھتے ہیں۔ مریضوں کی جانب سے اپنے اخراجات یا کم تنخواہ بارے کمیٹی کو مطمئن بھی کر لینے کے بعد اکثر اوقات مریض کو مختلف ٹیسٹ کروانے کے لیے  شفا انٹرنیشل ہسپتال کی مہنگی لیبارٹری میں بھیج دیا جاتاہے۔ اس الزام کی جانچ پڑتال کے لیے فلاحی کلینک جا کر اس کی تحقیق بھی کی گئی اور اس الزام کو درست پایا گیا۔

ذرائع نے اس ضمن میں مزید بتایا  ہے کہ مثال کے طور پر حاملہ خواتین کو گائنی وارڈ میں فلاحی کے اکاونٹ پر داخل کیا جاتا ہے مگر اکثر کیسز میں کیس کی پیچیدگی کا عذر بنا کر مشکل وقت میں شفا ہسپتال کی ہی فیس وصول کر لی جاتی ہے، جو خواتین کے اہل خانہ کو دینے کے علاوہ چارہ نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں اس سے قبل فلاحی کلینک کی اپنی لیبارٹری بھی تھی لیکن اب یہ بھی ختم کر دی گئی ہے۔

مزید براں ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ فلاحی کلینک میں آنے والے بیشتر مریضوں کو اکثر اوقات بیڈز کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ یہ سہولت صرف اسی صورت میں فراہم کی جاتی ہے جب مریض کو شفا ہسپتال میں پرائیویٹ مریض کے طور پر رجسٹر کروایا جائے۔ اگرچہ اس صورت میں اس سے قبل سارے اخراجات فلاحی کلینک برداشت کرتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب ایسی صورت میں مریض کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کی صورت میں صرف ڈاکٹر کی فیس وصول نہیں کی جاتی جبکہ دیگر تمام اخراجات کی ذمہ داری مریض پر ڈال دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ فلاحی کلینک شفا کالج آف میڈیسن کے ساتھ متصل ہے، جس کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو طبی علاج میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ میڈیسن کے طلباکو پریکٹیکلز اور تعلیم و تربیت میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ذرائع نے یہ انکشاف بھی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلاحی کلینک کے سپورٹ سٹاف کو شفا ہسپتال میں ضم کرنے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈاکٹرز اس ضم سے مستثنی ہیں۔  اس ضم کرنے کے نتیجے میں سپورٹ سٹاف کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی مرکزی ویب سائٹ کے مطابق شفا فیملی میں شفا فاونڈیشن، تعمیر ملت فاونڈیشن، شفا تعمیر ملت یونیورسٹی کے علاوہ ہسپتال، میڈیکل سینٹر اور لیبارٹری کلیکشن پوانئٹس شامل ہیں۔

فلاحی کلینک کا پروگرام شفا فاونڈیشن کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کی بنیاد 1991 میں رکھی گئی۔ اس فاونڈیشن کی مرکزی ویب سائٹ پر اس کا ویژن مستحق افراد کو مختلف شفاف طریقوں سے مالی طور پر امداد فراہم کرنا ہے۔ جبکہ ویب سائٹ کے مرکزی صفحے پر فلاحی کلینک کو شفا فاونڈیشن کی کازز کے تحت پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ تعارف کے صفحے میں شفا فاونڈیشن کے بیان کردہ ویژن، مشن اور کور ویلیوز میں ڈونیشنز اور سپانسرز کا دائرہ کار صرف آوٹ ریچ پروگرامز تک محدود رکھا گیا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شفا فاونڈیشن کے تحت چلنے والے پروگرامز میں زیادہ توجہ آوٹ ریچ پروگرامز کو دی جاتی ہے۔ شفا فاونڈیشن کی ویب سائٹ پر ڈونیشنز شفا فاونڈیشن کے ان پروگرامز کے ساتھ ساتھ فلاحی کلینک میں آنے والے مریضوں کے لیے بھی اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ یہ ڈونیشنز  دل کے امراض، پلاسٹک سرجری، نیورو سرجری، آرتھوپیڈک، ای این ٹی، آنکھوں، گائنی اور جنرل سرجری کے مستحق مریضوں کے لیے جمع کیے جاتے ہیں۔

ان تمام حقائق کی وضاحت کے لیے خبرنامے کی جانب سے شفا ہسپتال کی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا اور انہیں ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا گیا۔ انتظامیہ نے کسی بھی سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے اپنے جواب میں صرف یہ کہا کہ شفا ہسپتال اپنی ادارہ جاتی پالیسی کے مطابق ایسی معلومات کی میڈیا کو فراہمی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گا۔

 یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شفا ہسپتال کے حوالے سے ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں۔ اس سے قبل بھی بہت سے مواقع پر شفا ہسپتال کی جانب سے مریضوں کے اہل خانہ سے بدتمیزی اور ان سے بھاری بھرکم فیسیں وصول کرنے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔

یاد رہے مئی 2019 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہیلتھ ریگولیشن اور کووارڈینیشن نے بھی شفا ہسپتال کے ’مبہم اسٹیٹس‘  پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ سینیٹر میاں عتیق کی جانب سے کیے جانے والے سوال کہ آیا شفا  ہسپتال خیراتی ادارہ ہے یا تجارتی ادارہ، کے جواب میں شفا ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر منظور قاضی نے جواب دیا کہ شفا ایک تجارتی ادارہ ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں ایک سینیٹر کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ شفا ہسپتال کبھی خیراتی ادارہ بن جاتا ہے اور کبھی تجارتی۔  مذکورہ سینیٹر کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ شفا ہسپتال ملک کے ان ہسپتالوں میں سے ایک ہسپتال ہے جو پاکستان بیت المال کے پینل پر موجود ہے۔ اس میٹنگ میں پاکستان میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر امجد پومی نے بتایا کہ پچھلے دورِ حکومت میں شفا ہسپتال کو دل کے امراض کا ایک سینٹر کھولنے کے لیے 8000 ملین روپے کی گرانٹ ملی لیکن یہ سینٹر کبھی نہ بن سکا۔ ادارے کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی۔

واضح رہے اگست 2016 میں ایف آئی اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ کو بتایا تھا کہ شفا ءہسپتال نے دوارب کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ 2.5 ایکڑ غیر قانونی طور پر قبضہ میں لے لی گئی۔ کمیٹی نے اس انکشاف پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شفاءہسپتال میں پانچ دن کے علاج پر لاکھوں روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو پلاٹ کی نیلامی کرنے کا حکم دیتے ہوئے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

  یاد رہے 2007 میں اس وقت کے وزیر صحت محمد نصیر خان نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ غیر رجسٹرڈ ادویات  بیچنے کی وجہ سے شفا ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں اور کلینکس کا ادویات کا سٹاک سربہر کیا گیا تھا ۔

 

آئی ڈی: 2020/03/06/6021

متعلقہ خبریں

Leave a Comment