پمز ہسپتال میں ڈاکٹر نے پٹی مریضہ کے جسم میں چھوڑ دی

PIMS

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سب سے اہم اور بڑے ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے شعبہ زچہ و بچہ میں ڈاکٹرز کی غفلت سے پٹی کا رول خاتون  کے پیٹ  میں چھوڑ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کا ایک شہری اپنی اہلیہ کو پمز لایا جہاں 23 جنوری کو گائنی وارڈ میں اس کا آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران گائنی وارڈ کی ڈاکٹرز کی غفلت سے میڈیکل گاز یعنی پٹی کا رول خاتون  کے پیٹ ہی میں چھوڑ دیا گیا۔خاتون  کے اہل خانہ کے مطابق آپریشن سے قبل ہی ڈاکٹرز کا رویہ ان کی جانب انتہائی ناروا تھا اور ان سے کئی بار بد تمیزی بھی کی گئی۔ اہل خانہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں یہ بھی کہا گیا کہ آپ اپنے مریض کو کہیں اور منتقل کر دیں۔

گھر جانے کے بعد تقریباً 45 دن بعد خاتون  کو پیٹ میں شدید تکلیف ہوئی ۔ طبیعت زیادہ بگڑنے پر  اہل خانہ نے خاتون  کو ایک نجی ہسپتال منتقل کیا، جہاں سرجن نے مریضہ کے جسم سے پٹی کا رول نکال لیا جو انفیکشن کا باعث بن رہا تھا۔ خاتون کے اہل خانہ نے پمز کی انتظامیہ سے اس واقعے کا نوٹس لینے اور اس غفلت میں ملوث ڈاکٹرز کے خلاف سخت تادیبی  کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

واضح رہے ڈاکٹرز کی غفلت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2019 میں جیکب آباد میں ایک خاتون لیڈی ڈاکٹر کی جانب سے پیٹ میں کپڑا چھوڑے جانے کے بعد جاں بحق ہو گئی تھی۔

علاوہ ازیں جون 2018 میں لاہور کے سروسز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں بھی ایک خاتون کے آپریشن کے بعد میڈیکل گاز اس کے جسم میں ہی چھوڑ دی گئی تھی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/07/6040

متعلقہ خبریں

Leave a Comment