افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہو گیا


کابل: امریکہ نے طالبان سے افغان امن معاہدے کے تحت افغانستان سے اپنی فوج کا انخلا شروع کردیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ عامہ کے مطابق افغانستان کے  صدراشرف غنی آج طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کریں گے۔ اس اعلان کے تحت ابتدائی طور پر ایک ہزار قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اشرف غنی نے کہا ہے کہ  قیدیوں کی رہائی کا فریم ورک بن گیا ہے اور اس سے تشدد کے واقعات میں کمی ہوگی۔ قیدیوں کی رہائی کے بعدافغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمےخلیل زاد نے منگل کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ اشرف غنی کے اعلان سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموارہوگی۔ افغان صدراشرف غنی کی جانب سے قیدیوں کے تبادلےکا اعلان خوش آئند ہے۔ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کے درمیان صلح کی کوششیں جاری رکھیں گے کیوں کہ افغانستان میں امن ومصالحت دونوں رہنماؤں کی ترجیح ہے۔

طالبان امریکہ امن معاہدہ

واضح رہے طالبان اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے دو سال سے جاری مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر دستخط  ہو گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت امریکہ پہلے مرحلے میں ساڑھے چار ہزار فوجی افغانستان سے نکالے گا جبکہ  ساڑھے 8 ہزار فوجیوں کا انخلا معاہدے پر مرحلہ وار عملدرآمد سے مشروط ہے۔

افغان جیلوں سے 5 ہزار طالبان قیدی مرحلہ وار رہا کیے جائیں گے اور طالبان افغان حکومت کےساتھ مذاکرات کے پابند ہوں گے جبکہ انہیں دیگر دہشت گردوں سےعملی طور پر لاتعلقی اختیار کرنا  ہو گی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/10/6124

Leave A Reply

Your email address will not be published.