شہباز تتلہ کیس: ایس ایس پی مفخر عدیل نے گرفتاری دے دی

Mufakkhar-Adeel-SSP

لاہور: پنجاب پولیس کے مفرور ایس ایس پی مفخر عدیل نے پچھلے کئی دن سے معمہ بنے شہباز تتلہ قتل کیس میں پولیس کو گرفتاری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایس ایس پی مفخر عدیل کو گلگت بلتستان سے حراست میں لیا گیا  ہے۔ان سے قبل اس کیس میں ان کا دوست اسد بھٹی اور ملازم عرفان بھی مبینہ پولیس حراست میں ہیں۔

میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق  شہباز تتلہ کے اغوا اور قتل میں ملوث ایس ایس مفخر عدیل پولیس کو مطلوب تھے۔ شہباز تتلہ کے اغوا کا مقدمہ تھانہ نصیرآباد میں سات فروری کو درج کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق اسسٹنٹ اٹارنی ایڈووکیٹ شہباز تتلہ سات فروری کو اغوا ہوئے جب کہ  ان کے دوست ایس ایس پی مفخر عدیل 12 فروری کی شب اچانک پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔ اس سلسلے میں ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی مفخر عدیل اور شہباز تتلہ نویں جماعت سے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی جائیدادیں اور کاروبار مشترک تھے۔

میڈیا کے ذریعے یہ خبریں منطر عام پر آئی تھیں کہ مفخر عدیل، شہباز کی گمشدگی پر پہلے اُن کے گھر والوں کو تسلیاں دیتے رہے اور پھر غائب ہونے سے پہلے شہباز کےگھر والوں کو میسج کیا کہ وہ شہباز کو نہیں چھوڑیں گے۔

پولیس کی زیر حراست اسد بھٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کو قتل کردیا ہے۔ اس نے اپنے بیان کے ذریعے الزام عائد کیا ہے کہ مفخر عدیل نے شہباز کو دھوکے سے ایک جگہ بلا کر گلا دبایا اور نعش تیزاب کے ڈرم میں پھینک دی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/10/6154

متعلقہ خبریں

Leave a Comment