ایس ایس پی مفخر عدیل 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے


لاہور: ماڈل ٹاؤن کچہری میں شہباز تتلہ کیس کی سماعت کے بعد عدالت نےایس ایس پی مفخرعدیل کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

پولیس کے مطابق7 فروری کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر قتل ہونے والے شہباز تتلہ کیس میں مفخر عدیل11 فروری سے روپوش تھے اور پولیس ان کو تلاش کرنےمیں ناکام رہی، جبکہ زیر حراست دو ملزموں اسد بھٹی اور عرفان بھی مفخر عدیل بارے زیادہ معلومات نہ دے سکے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مفخر عدیل کی والدہ کو حراست میں رکھا۔ ان کی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش کیا گیا، جس پر مفخر نے قریبی دوستوں کے ذریعہ والدہ کو رہا کرانے کی کوشش کی۔ کامیابی نہ ہونے پر انہوں نے پولیس کو مجبوراً گرفتاری دے دی۔

پولیس نے مفخر عدیل کو سی آئی اے کوتوالی کے حوالات میں بند کر رکھا ہے  جہاں اعلیٰ پولیس افسروں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی ساتھ ساتھ شہباز تتلہ کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی وجوہات اور محرکات بھی جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مفخر پنجاب سے باہر ایک سیاسی رہنما کے گھر رہ رہے تھے او ر وہاں سے پاکستان سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھے۔  کورونا وائرس کے باعث سرحدیں بند ہونے پر ایران فرار نہ ہوسکے۔

ترجمان لاہور پولیس کا کہناہے غیرت کے نام پر اپنے قریبی دوست کو ساتھیوں سے ملکر قتل کرنے والے مفخر عدیل کو گرفتار کرلیا گیا، لیکن ذرائع کے مطابق مفخرعدیل نے خود ہی گرفتاری دی تھی ۔ ذرائع کے مطابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے اپنا ابتدائی بیان پولیس کو ریکارڈ کرا دیا ہے۔  بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز تتلہ نے ان کی پہلی بیوی سے مبینہ طور پر زیادتی کی جس کے بعد ہمارے درمیان علیحدگی ہوگئی ۔ مفخر عدیل کے مطابق شہباز تتلہ نے میری موجودہ بیوی سے بھی زیادتی کی کوشش کی۔، اس کے بتانے پر میں انتقام کی آگ میں جلنے لگااور پھر شہباز تتلہ کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی۔

اس کے علاوہ زیر حراست عدیل مفخر اور مقتول شہباز تتلہ کے مشترکہ دوست اسد بھٹی نے بھی دوران تفتیش ایسے ہی انکشافات کیے تھے۔  اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کو اغواء کر کے قتل کیا اور لاش تیزاب کے ڈرم میں گلا کر روہی نالے میں پھینک دی تھی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/11/6207

Leave A Reply

Your email address will not be published.