بغیر ٹینڈر چینی خریداری معاملہ، قومی اسمبلی میں ن لیگ اور تحریک انصاف کے ایک دوسرے پر الزامات

National Assembly

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں چینی کی ٹینڈرکے بغیر خریداری کے معاملے پر مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف نے ایک دوسر ے پر الزامات لگا دئیے۔

ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران (ن) لیگ کی شیزافاطمہ نے کہاکہ بتایا جائے جہانگیر ترین سے ہی کیوں چینی خریدی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کی وجہ سے چینی بحران پیدا ہوا اسی سے چینی خریدی جارہی ہے۔اس پر پارلیمانی سیکرٹری صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ نے کہاکہ ایک لاکھ ٹن چینی منظور وسان کے گودام اور 25ہزار ٹن چینی چوہدری شوگر ملز کے گودام سے نکلی۔ ایک بندہ نقصان کرکے چینی سستی دے رہا ہے، اس پر ان کو اعتراض کیوں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن اس پر سیاست نہ کرے۔  ان کی اپنی شوگر ملزہیں۔ چینی یہ مہنگی دے رے ہیں اور زخیرہ اندوزی بھی کرتے ہیں۔ الزام پی ٹی آئی کو مت دیں۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شیزا فاطمہ خواجہ کے سوال کے جواب میں عالیہ حمزہ ملک نے مزید بتایا کہ 20 کلو آٹا 800 روپے میں مل رہا ہے اس سے زیادہ کی رسیدیں لے آئیں۔ جب چینی ایکس مل ریٹ 71روپے حکومت کو مل رہی تھی تو حکومت 68روپے دے رہی تھی۔  جب چینی ایکس مل ریٹ 80روپے تھی تو حکومت 67روپے دے رہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہانگیر ترین نے ایک نجی ٹی کے لائیو پروگرام میں 20 ہزار ٹن چینی 67 روپے فی کلو دینے کی پیش کش کی۔ جہانگیرترین اپنا نقصان کرکے 67روپے کلوچینی دے رہا ہے تو باتیں بھی اسی پر ہورہی ہیں۔چینی کی ذخیرہ اندازی کرنے والے ہی الزام دوسروں پر لگارہے ہیں۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پاس اگر 20 ہزار ٹن چینی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سب سے بڑا ذخیرہ اندوز ہے۔ اس کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائیں۔ دریں اثناءقومی اسمبلی کو آ گاہ کیا گیا کہ جہانگیر ترین نے 20ہزار ٹن چینی67روپے فی کلو میں مہیا کرنے کا کہا، جبکہ یو ٹیلیٹی اسٹورز نے جو ٹینڈر دیا اس کے مطابق چینی فی کلو81روپے میں مل رہی تھی۔

 

آئی ڈی: 2020/03/12/6286

متعلقہ خبریں

Leave a Comment