شاہدخاقان عباسی کیخلاف منی لانڈنگ کی تحقیقات شروع

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو(نیب) نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف منی لانڈنگ کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی کو شاہد خاقان عباسی اور اہل خانہ کے اکاونٹس میں اربوں کی ٹرانزیکشنز کے ثبوت ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 2013 سے لیکر 2019 تک شاہد خاقان عباسی، بیٹے عبداللہ خاقان اور بہنوئی کے اکاونٹ میں 3 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

تمام اکاونٹس کی دستاویزات کے مطابق شاہد خاقان عباسی کے اکاونٹ میں سوا ارب روپے منتقل ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان کے صاحبزادے عبداللہ خاقان کے اکاونٹ میں 1.423 بلین روپے منتقل ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کے حوالے سے سپلیمنٹری ریفرنس بھی تیار کر لیا ہے جو جلد احتساب عدالت میں دائر کیا جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی 2013 سے لیکر 2019 کے دوران وزیر پیٹرولیم اور وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں اور اسی مدت میں ایل این جی معاہد طے پایا تھا۔

خیال رہے کہ 18 جولائی 2019 کو نیب نے ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ٹھوکر نیاز بیگ ٹول پلازہ لاہور سے گرفتار کیا تھا تاہم وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا 220 ارب روپے کا ٹھیکہ ایسی کمپنی کو دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/03/12/6336

متعلقہ خبریں

Leave a Comment