سپریم کورٹ نے پشاور میٹرو منصوبے کی لاگت پر سوال اٹھا لیے

Supreme Court of Pakistan

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پشاور میٹرو  منصوبے کی لاگت پر سوال اٹھا لیے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ منصوبے کی 17 فیصد قیمت تو بڑھی ہے۔۔ کیا منصوبے کے تمام مراحل قواعد و ضوابط کے مطابق طے کئے گئے ہیں۔؟ عدالت منصوبے کے مراحل کا جائزہ ضرور لے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پشاور میٹرو تحقیقات کے حکم کے خلاف خیبر پختونخواہ حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔  کے پی کے حکومت نے پشاور میٹرو  منصوبہ کے 100 ارب میں تکمیل کی خبروں کی تردید کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے استفسار پر نمائندہ پشاور ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ پشاور میٹرو کا کل بجٹ 66.4 ارب روپے ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سنا ہے کسی جگہ سے میٹرو بسیں گزز بھی نہیں سکتیں ؟ جس پر نمائندہ پشاور ٹرانسپورٹ بلال جھگڑا نے عدالت کو بتایا کہ ایسا صرف میڈیا پر چل رہا ہے،، منصوبہ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔  جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے تو فیصلے میں کہا قوم کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔  منصوبے کی سترہ ارب لاگت تو بڑھی ہے۔ وکیل بی آ ر ٹی نے لاگت بڑھنے کی وجہ پی سی ون میں تبدیلی اور دو کلومیٹر ٹریک کا اضافہ بتایا ۔۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جانتے ہیں کہ بی آ ر ٹی منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔۔ عدالت منصوبے کے مراحل کا جائزہ ضرور لے گی۔ عدالت نے درخواست گزار عدنان آفریدی کو حکومتی جواب پر تیاری کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی.

متعلقہ خبریں