لاہور۔سیالکوٹ موٹروے کو آج سے عام ٹریفک کیلئے کھولنے کا فیصلہ


نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن نے عوام کی سہولت کے پیش ِ نظر لاہور۔سیالکوٹ موٹروے کو آج سے عام ٹریفک کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ موٹروے نہ صرف دو تاریخی اور صنعتی شہروں کو آپس میں ملائے گی بلکہ اس کے فعال ہونے سے علاقے میں ایک نئے ترقیاتی دور کا آغاز ہو گا۔

 یہ موٹروے تمام تر جدید تر سہولیات سے آراستہ ہے اور اس کے فعال ہونے سے لاہور۔سیالکوٹ کازمینی فاصلہ اڑھائی گھنٹے سے سمٹ کر 50 منٹ تک رہ جائے گا۔ یہ موٹروے نہ صرف دو تاریخی اور صنعتی شہروں کو آپس میں ملائے گی بلکہ اس کے فعال ہونے سے علاقے میں ایک نئے ترقیاتی دور کا آغاز ہو گا۔

لاہور۔سیالکوٹ موٹروے کی شروعات2006 منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز 2017میں ہوا اور آج اس عظیم منصوبے کا افتتاح ہو رہا ہے۔ اس کی تکمیل کا سہرا فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (FWO)کے سر ہے جس نے اسےBuild Operate & Transfer (BOT) ”یعنی تعمیر کرو، چلاؤ اور مقرر ہ مدت کے بعد حکومت کے حوالے کر دو“ کی بنیاد پر مکمل کیا۔ اس طرحFWOآئیندہ25سال تک اس کی مرمت اور دیکھ بھال بھی کرے گا۔
91کلو میٹر طویل اس موٹروے سے لاہور۔سیالکوٹ کا درمیانی فاصلہ سمٹ کر50منٹ ہو جائے گا۔ اس کے فعال ہونے سے جی ٹی روڈ اور لاہور۔اسلام آباد موٹروے پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی واقع ہو گی۔
چار لینوں پر مشتمل اس شاہراہ پر سات (7)انٹر چینج،چھ(6)فلائی اوور، چوبیس(24)پُل اور بائیس (22)انڈر پاس ہیں۔ اس کے علاوہ علاقہ مکینوں کی سہولت کے لئے تیرا (13)سب وے اور دو سو چوہتر(274)کلورٹس ہیں۔ اس کے اطراف میں تین(3)صنعتی علاقے اور دو یونیورسٹیاں بنائی جائیں گی۔ یہ موٹروے جی ٹی روڈ کے متوازی ہے اور کامونکی، گوجرانوالہ، ڈسکہ اور سمبڑیال کے مشرق سے گزرتی ہوئی سیالکوٹ شہر کے پاس اختتام پذیر ہوتی ہے۔ مستقبل قریب میں یہ شاہراہ سیالکوٹ۔راولپنڈی موٹروے سے منسلک ہو جائے گی۔
اس موٹروے کا آغاز لاہور سے ہوتا ہے جہاں اسے مشرقی بائی پاس اور رنگ روڈ سے منسلک کیا گیا ہے۔ لاہور سے نکل کر پہلا انٹر چینج کالا شا ہ کاکو کے مقام پر ہے جو اسےN-5سے نکلتی راولپنڈی جانے والی قومی شاہراہ اور لاہور۔ اسلام آباد موٹروے (M-2)سے ملاتا ہے۔ دوسرا انٹر چینج ایک جانب مرید کے اور دوسری جانب ناروال شہر کو ملاتا ہے۔ تیسرا انٹر چینج ایمن آباد اور وانڈو سے منسلک ہے۔ چوتھا انٹر چینج اپنی اطراف میں گوجرانولہ اور پسرور کو ملاتا ہے۔ پانچواں انٹر چینج ڈسکہ اور پسرور کے لئے ہے۔ چھٹا انٹر چینج ڈسکہ اور سیالکوٹ کے شہروں کو ملاتا ہے۔ ساتواں انٹر چینج سیالکوٹ شہر سے15کلو میٹر مغرب میں واقع ہے یہاں سے سیالکوٹ، کھاریاں اور وزیر آباد کے لئے راہیں کھلتی ہیں۔ یہ موٹروے تمام تر جدید سہولیات سے آراستہ ہے جن میں بہترین سروسز ایریاز، الیکٹرانک ٹال اینڈ ٹریفک مینجمنٹ، سیکورٹی کیمراز، موبائل ورکشاپس، ایمبولینس اور حادثات سے نمٹنے کے لئے انسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی رسپانس یونٹ بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کی تکمیل سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔


Comments are closed.